خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 992 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 992

خطبات طاہر جلد 13 992 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء ہر ذرہ ، ہر جز و، خدا کی عبادت سے سرشار ہو ، اس کی اجتماعی شان بہت بلند ہو جاتی ہے اور اس کی دعاؤں کی قبولیت کا مرتبہ بھی بہت اونچا ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو یہ مراد نہیں کہ ساری جماعتیں سوچیں کہ اس دفعہ ہم نے وقف جدید کا چندہ کتنا دیا تھا تحریک جدید کا چندہ کتنا دیا تھا، دیا تو تھا مگر سب نے ویسا نہیں دیا بعضوں نے کم دیا مگر بڑی قربانی کے ساتھ دیا۔بعضوں نے زیادہ دیا مگر کم قربانی کے ساتھ دیا، اس لئے یہ اجتماعی سوچ کا محل ہی نہیں ہے کہ اجتماعی طور پر غور ہو سکے۔یہ انفرادی سوچ کا محل ہے، انفرادی سوچ کی باتیں ہیں۔ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ اپنا جائزہ لے اور پھر خود ہی نتائج اخذ کرے، کسی اور کو نہ بتائے اگر کمزوریاں ہیں تو اپنے تک محدود رکھے اللہ تعالیٰ سے پردہ پوشی چاہے اور خدا کے حضور ہی اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے پردہ پوشی کی بھی دعا کرے اور آئندہ ان بدیوں سے بچنے کے لئے بھی توفیق مانگے۔پس یہ جو لحات ہیں سال کے آخر کے، یہ انہی سوچوں میں صرف ہونے چاہئیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر واقعۂ فرد جماعت ان اہم پہلوؤں سے جن میں سے چند کی میں نے نشان دہی کی ہے اپنا جائزہ لیں تو آئندہ سال کیلئے جماعت کو بہت سے ایسے کارکن مہیا ہو جائیں گے جو پہلے مہیا نہیں تھے۔اب تبلیغ کا معاملہ ہے میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ ابھی تک بھی میرے نزدیک جماعت کی اکثریت ایسی ہے جو داعی الی اللہ نہیں بن سکی ، ابھی تمنا ئیں دلوں میں کروٹ لے رہی ہیں اور زمین تیار ضرور ہورہی ہے، وہ نظر آرہا ہے لیکن ابھی اس قابل نہیں ہوئے کہ وہ کہہ سکیں کہ ہاں ہم نے بھی حصہ ڈال دیا۔پس ان باتوں کو بار بار یاد کرانے کے نتیجے میں جو انسان کا شعور بیدار ہوتا ہے اور خود اپنی نگرانی کرتا ہے اور اس کے اندر سے ایک نصیحت کرنے والا میسر آ جاتا ہے پھر وہ نصیحت ضرور فائدہ پہنچاتی ہے۔میں نے بارہا اس مضمون پر غور کیا ہے کہ آنحضرت عمل کو جو اللہ نے فرمایا فَذَكَرُ انْ نَّفَعَتِ الذكرى (الاعلیٰ : 10 ) که نصیحت کر نصیحت ضرور فائدہ پہنچاتی ہے۔اس میں بہت سی حکمتیں مجھے ہر دفعہ دکھائی دیں اور خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے حوالے سے یہ مضمون سمجھ آتا ہے ور نہ نہیں آتا۔ایک اور حکمت جو مجھے اس میں دکھائی دی، جس کا پہلے میں ذکر نہیں کر سکا وہ یہ ہے کہ وہ ناصح جس کی نصیحت پہلے اس پر کارگر ہو ، اس کی نصیحت دوسروں پر ضرور کارگر ہوتی ہے۔وہ ایک عالم باعمل بن جاتا ہے جو بات کہتا ہے وہ کرتا ہے اور جو کرتا ہے اس کی باتوں میں ایک عظیم طاقت پیدا صلى الله