خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 984 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 984

خطبات طاہر جلد 13 984 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 دسمبر 1994ء بچوں کا ذوق اب اس طرف منتقل ہو رہا ہے سارے مغرب میں کہ فرضی سپر مین ہے کوئی سپر بیٹ بنی ہوئی ہے، سپر سپائیڈر بن گیا ہے۔کوئی مکڑا سپر ہے کوئی چمگادڑ سپر ہے اور فرضی کہانیاں ایسا پاگل کر رہی ہیں بچوں کو کہ ہوش ہی نہیں رہی ان کو ، دماغوں کے دائرے ہی مختلف ہو گئے ہیں ، انسانی دائرے سے ہٹ کر ایسی جگہ وہ دائرے ممتد ہورہے ہیں۔جہاں حقیقت کا وجود ہی کوئی نہیں ہے اور اس پر یہاں کے اہل دانش بھی فکر کا اظہار کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہمارا تعلیمی معیار گرنے کی بڑی وجہ ٹیلی ویژن ہے اور باتیں سوچ رہے ہیں ، خواہ مخواہ نظام بدلنے کی باتیں کر رہے ہو۔یہ ٹیلی ویژن کو ٹھیک کرو پہلے۔ہمارے بچوں کو یہ ٹیلی ویژن کے پروگرام پاگل بنا رہے ہیں۔پھر ایک محقق نے یہ جائزہ لیا، اس نے کہا کہ بچوں میں پڑھنے کی عادت ہی نہیں رہی اور وہ جو پڑھنے سے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے کتابوں کا شوق، کتابوں کے بغیر انسان سونہ سکے یہ ایسی اچھی روایات تھیں ہماری یعنی انسان کی کہ جن کو ٹیلی ویژن نے آکے برباد کر دیا ہے۔تو ٹیلی ویژن کے فائدے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ضرور ہیں اور ہم ان فائدوں کی حد تک رہیں گے انشاء اللہ اور بھر پور فائدہ حاصل کریں گے لیکن جو نقصانات کے پہلو ہیں ان سے بچنا ضروری ہے اس لئے کسی کو نہ بھی دلچسپی ہو تو کوشش کر کے ان پروگراموں میں حصہ لے کچھ دیر کے بعد ضرور دلچسپی پیدا ہوگی کیونکہ علم علم ہی ہے یہ کوئی فرضی کہانی تو نہیں کہ آئی اور چلی گئی اور کچھ دیر کے لئے ہیجان پیدا کر گئی۔علم کا جو لف ہے وہ دائمی ہو جاتا ہے۔وہ اپنے پیچھے جو زمین چھوڑ کے جاتا ہے وہ زرخیز زمین ہوتی ہے۔سیلاب ہی سمجھ لیں اس کو لیکن یہ مٹی ضرور چھوڑے گا وہ زرخیز مٹی چھوڑے گا جہاں آپ کے خیالات پاکیزہ رنگ میں نشو نما پائیں گے جہاں آپ کے اندرنی عظمتیں پیدا ہوں گی ، آپ کونئی وسعتیں عطا ہوں گی۔تو اللہ کرے ہمیں یہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق ملے اور جماعت پوری طرح استفادہ کرے جہاں جہاں میں نے یہ باتیں کی ہیں کہ کوشش کرو یہ مراد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ جماعت میں دلچسپی نہیں ہے۔بکثرت دلچسپی ہے یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کے متعلق مائیں لکھتی ہیں کہ وہ ہمیں دوسرے پروگرام اب دیکھنے ہی نہیں دیتے اور ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کو پتا تو کچھ لگ نہیں رہا ہوا کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ وہ مسحور ہو گئے ہیں ، MTA کے پروگراموں سے۔ہر وقت یہی شور ہوتا ہے کہ ہم