خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 983 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 983

خطبات طاہر جلد 13 983 خطبه جمعه فرموده 23 دسمبر 1994ء موجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے اوپر جہاں بھی نظر ڈالیں گے آپ ، جس جگہ بھی دیکھیں گے غور کر کے دیکھیں سہی آپ، بے اختیار دل سے تبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ کی آواز اٹھتی ہے اور اگر یہ حوالہ دیا جائے تو وہی پروگرام جو بظاہر مغربی اور سیکولر ہیں وہ اچانک مذہبی پروگرام بن جاتے ہیں۔تو ان پروگراموں کو بعض دفعہ ان لوگوں سے مانگنے سے بھی مل جاتے ہیں۔میں نے MTA کو اس کام پہ لگایا ہوا ہے ، خط و کتابت کر رہے ہیں بہت سی جگہ تصویر میں انہوں نے دی ہیں کہ ٹھیک ہے آپ لے لیں۔بعض جگہ ہم نے ان سے اجازت مانگی کہ آپ نے کہیں کوئی زیادہ منگ دکھایا ہے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔MTA میں تو بہر حال مناسب نہیں ہے تو انہوں نے یہ بھی اجازت دے دی ہے کہ اس حصے کو کاٹ لو لیکن ہمارا نام بتا نا ہوگا کہ یہ فلاں نے بنائی تھی اور اجازت دی تھی۔تو آپ بھی مختلف علاقوں میں کوشش کر سکتے ہیں۔اب جرمن تہذیب ، جرمن تمدن، اس کی تاریخ ، اس کی ترقی ، تنزل ، جغرافیائی تبدیلیاں، عادات، مزاج، شمال جنوب کا فرق ، قوموں کے اعتبار سے خواہ ایک قوم ہوان کے علاقائی روایات کے لحاظ سے ان کے مزاج بدل جاتے ہیں۔جرمنی میں خصوصیت سے یہ بات قابل غور ہے۔تو ان سب پروگراموں میں آپ اگر دلچسپی لیں تو کچھ وقت ضرور لگے گا میں صبر سے چند مہینے اور بھی انتظار کروں گا لیکن توقع رکھتا ہوں کہ جب یہ آنے شروع ہو جائیں تو پھر اس کثرت سے آئیں گے کہ ہمارے ہاں یہ جو شکایت پیدا ہورہی ہے کہ ایک ہی طرح کی باتیں ہورہی ہیں اس کا ازالہ ہو جائے گا۔بنیادی پروگرام تو بہر حال تعلیم و تربیت کا ہے۔دلچسپی کے پروگرام بھی ہوں گے وہ بھی تعلیم و تربیت ہی کے ہوں گے لیکن اگر وہ نہ بھی ہوں تو جس طرح اب چھ گھنٹے یا سات گھنٹے سکول میں جا کے بیٹھے ہیں وہاں دلچسپی کی خاطر تو نہیں جاتے علم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔تو اس ٹیلی ویژن کے سامنے بعض نازک مزاج جلدی بور ہو جاتے ہیں ان کو مخاطب کر کے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کو اپنی تربیت کرنی چاہئے۔یہ انتہائی ضروری دینی تربیت کے پروگرام ہیں علمی تربیت کے پروگرام ہیں اور آپ کے دماغ کو روشن کریں گے، آپ کے دماغ کونئی وسعتیں دیں گے ان پروگراموں کا ذوق اگر نہیں ہے تو پیدا کریں اور کوشش سے پیدا کریں۔اپنے بچوں میں ان کا ذوق پیدا کریں ورنہ آج کل جو ذوق ہے ہم اس کی پیروی نہیں کر سکتے وہ جاہل بنانے والے پروگرام ہیں۔