خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 959 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 959

خطبات طاہر جلد 13 959 خطبه جمعه فرمود و 16 دسمبر 1994ء تکلف نہیں ہے تو سارے احمد یہ ٹیلی ویژن کا یہ مزاج ہے کوئی تکلیف نہیں جو ضرورت ہے وہ پوری کرنی ہے اور بہت ہی غریبانہ طریق پر پوری ہوتی ہے مگر ہو جاتی ہے اور جہاں تک علمی فائدے کا تعلق ہے یہ زیادہ مفید طریقے پر خدا کے فضل سے MTA علمی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ہومیو پیتھک کے لیکچر ہیں جن لوگوں نے مختلف ملکوں میں سنے ہیں اور ہومیو پیتھی کا کام شروع کر دیا ہے ان کی طرف سے بہت ہی خوش کن اطلاعیں مل رہی ہیں اور وہ لکھتے ہیں بعض کہ ہمیں تو سکون مل گیا ہے زندگی میں۔کہیں رات کے وقت بچہ بیمار ہوتا ہے کہیں بھاگے پھرتے تھے ڈاکٹر کو فون کرتے کہیں اخراجات اٹھتے تھے، کہیں ویسے یہ مصیبت تھی اور پھر ہسپتالوں میں ڈال کے وہ کئی کئی ٹیسٹ کرتے تھے اب ہم نے آپ کے بتائے ہوئے طریق پر ہومیو پیتھک شروع کی ہوئی ہے اور اب ضرورت ہی نہیں رہتی باہر جانے کی۔بعض مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں بچے کو یہ تکلیف ہوئی یہ دوائی دی ٹھیک ہو گیا اور بعض دوسروں کا علاج شروع کر چکے ہیں۔تو علاج کا جو فن ہے یہ بہت ہی اہم ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس کو دینی علم کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا ہے۔العلم علمان علم الاديان وعلم الابدان علم تو دوہی ہیں یا دین کا علم ہے یا بدنوں کا علم اور پرانے مفسرین نے اس کا ترجمہ طبی علوم کے طور پر کیا ہے۔میں اس کو وسیع کرتا ہوں میرے نزدیک بدن میں صرف طب ہی نہیں بلکہ Matters کا علم جو ہے۔سائنس ، تمام وہ علوم جو میٹرز سے تعلق رکھتے ہیں ان کو ایک طرف بیان فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اور وہ تمام علوم جو تصورات کی دنیا سے اور عقائد سے اور دین سے تعلق رکھتے ہیں ان کو علم الدین کے طور پر بیان فرمایا ہے۔تو ہم نے ہر چیز سکھانی ہے دنیا کو۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ غریب انسانیت کی شدید ضرورت ہے کہ اسے اپنا روز مرہ کی ضرورت کا سستا علاج سکھایا جائے۔اتنی تکلیف میں ہے دنیا کہ تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔غریبوں کی کیا حالت ہوگی؟ اپنے گھر میں جب کوئی بیمار ہو اس وقت سمجھ میں آتی ہے کہ کیسے سارا گھر بے چین ہو جاتا ہے اور اللہ کا احسان ہے کہ ہومیو پیتھک کے علم کی وجہ سے نہ مجھے باہر بھاگنا پڑتا ہے نہ بچوں کو جانا پڑتا ہے۔ہر روز عام ضرورتیں خدا کے فضل سے پوری ہو جاتی ہیں۔کبھی کسی Anitbiotic کی ضرورت نہیں پڑتی اور اگر ہمارے گھر نہیں پڑتی تو آپ کے گھر کیوں پڑے ہم بھی تو ایک ہی چیز ہیں یعنی ہر احمدی کے گھر میں چاہتا ہوں کہ ویسا ہی سکون میسر آئے جیسا اللہ کے