خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 955 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 955

خطبات طاہر جلد 13 955 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1994ء اور آپ حیران ہوں گے تیسویں سبق تک پہنچتے پہنچتے ماشاء اللہ اچھی اردو بولنے لگ گئے ہیں۔سوال کرنے لگ گئے ہیں۔لطیفے سمجھتے ہیں اور پُر مذاق گفتگو خود بھی کر لیتے ہیں لیکن ابھی بہت ابتدائی دور ہے۔یہ بات تو قطعاً ثابت ہو گئی ہے کہ یہ نظریہ غلط نہیں تھا کہ ہم کسی اور زبان کے سہارے کے بغیر براہ راست ایک زبان کو سکھا سکتے ہیں۔اس میں جو فوائد ہیں وہ ایک سے زیادہ ہیں۔ایک تو فائدہ میں نے بار بار سمجھایا ہے پہلے بھی کہ جو زبان بچوں کو سکھائی جاتی ہے وہ بغیر کسی زبان کی مدد کے سکھائی جاتی ہے اور یہ قانون قدرت ہے ، خدا نے قانون بنایا ہے ، خدا نے طریقہ بنایا ہے اور اس سے بہتر دنیا میں طریقہ ہوہی نہیں سکتا۔انسان جتنا مرضی ترقی کرلے اس طریق سے بہتر کوئی طریق ایجاد نہیں کرسکتا۔جاہل سے جاہل ماں بھی اپنے بچے کو اپنی زبان سکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہر زبان سکھانے کی انسان صلاحیت رکھتا ہے۔تو اس طریق کو اپنا کر جو زبان سکھائی جائے اگر چہ اس میں محنت زیادہ ہے اور وقت زیادہ لگتا ہے جتنی زبان بھی سیکھنے والے سیکھتے ہیں وہ ان کے سسٹم کا ، ان کے اندرونی نظام کا حصہ بن جاتی ہے اور کسی ترجمے کے بغیر بے ساختہ ان کے ذہن میں وہ لفظ ابھرتے ہیں وہ محاورے ابھرتے ہیں جن کی ان کو کسی خاص صورت میں ضرورت پیش آتی ہے تو اس پہلو سے لازماًیہ بہترین طریق ہے۔لیکن وقت کے لحاظ سے اگر مثلاً وہاں ہم جو بغیر دوسری زبان کے سہارے کے کوشش کرتے ہیں کہ بعض الجھے ہوئے معاملات سلجھ جائیں اور کلاس کے طالب علم سب سمجھ جائیں وہاں بعض دفعہ دل چاہتا ہے فوراً انگریزی میں بتا دیا جائے کہ یہ ہم کہنا چاہتے ہیں وہ فورا سمجھ جائیں گے لیکن انگریزی بولنے والوں کے لئے تو آسان ہو جائے گا لیکن وہ لاکھوں آدمی جن کو انگریزی نہیں آتی وہ کیسے سمجھیں گے اور جب جاپانی سکھا رہے ہوں گے آپ تو پھر کیا ہوگا جب چینی سکھارہے ہوں گے تو پھر کیا ہوگا تو جو فوائد ہیں اس طریق کے وہ دوسرے طریق سے بہت زیادہ ہیں اور بہت ان پر حاوی ہیں۔اب دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ ان سب پروگراموں کا مختلف زبانوں میں اس رنگ میں ترجمہ ہو کہ با قاعدہ اردو سمجھ کر ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ جس طرح طالب علم اردو سیکھ رہے ہیں ترجمہ کرنے والا جو سمجھ رہا ہے وہ اپنی زبان میں اس کا ترجمہ کرے۔یعنی اس کو تر جمہ کہنا شاید سو فیصد درست نہیں ہے۔وہ وہی مضمون جو اس کے ذہن میں ابھرتا ہے جو اردو سیکھنے والے طالب علم کے ذہن میں اس وقت