خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 954
خطبات طاہر جلد 13 954 خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1994ء سامنے ایسی صورت میں پیش نہیں ہو سکے کہ ان سے حقیقی استفادہ ہو سکے۔ان پروگراموں میں سے ایک پروگرام تو زبانیں سکھانے کا پروگرام ہے، ایک پروگرام ہے قرآن کریم کی تعلیم کا۔ایک پروگرام ہے ہومیو پیتھک نظام سے متعلق تعارف ، واقفیت، دواؤں کا تعارف اور روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے جماعت کی تعلیم۔یہ جو پروگرام ہیں ان کے متعلق مجبوری یہ ہے کہ مجھے خود کرنے پڑرہے ہیں اور یہ وجہ نہیں کہ مجھے کوئی شوق ہے کہ ہر پروگرام میں خود کروں بلکہ سخت وقت کی کمی کے باوجود مجبورا کرنے پڑ رہے ہیں۔مثلاً زبانیں سکھانے کا پروگرام۔میں نے چھ مہینے انتظار کیا۔مختلف ایسے دوستوں کے سپرد کئے جن کو میں سمجھتا تھا کہ ایسے پروگرام بنانے کی صلاحیت ہے، سمجھتے ہیں۔لیکن باری باری بہت کوشش کی۔سب کے سب نے ہتھیار ڈال دیئے کہ ہمیں نہیں سمجھ آ رہی کہ آپ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ بغیر کسی دوسری زبان کے سہارے کے بڑے لوگوں کو ٹیلی ویژن کے ذریعہ زبان سکھائی جاسکتی ہے اور اس وجہ سے پھر آخر مجبوراً مجھے خود، جو میری سوچ تھی اس کو عمل میں ڈھال کر دکھانے کی توفیق ملی ہے اور یہ ہے بہت ضروری۔اول تو یہ کہ ساری دنیا میں اردو کی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے اردو میں ہونے کی وجہ سے از بس ضروری ہے اور پھر چونکہ خطبات بھی خلیفہ وقت اردو میں دیتا ہے اس لئے ترجموں کی بجائے اگر براہ راست سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے تو اس کی دوسرے ترجمے سے کوئی نسبت نہیں رہتی یعنی ترجمے کی اس سے کوئی نسبت نہیں رہتی اور پھر اکثر دنیا میں جو تبلیغ کا انتشار ہوا ہے اس میں ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والوں کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی توفیق بخشی ہے اور ان کے لئے دوسری سب زبانیں سیکھنا بہت مشکل کام ہے اس لیے اگر دوسرے اس عرصے میں جو نو احمدی ہوتے ہیں وہ اردو سیکھنے لگیں تو ان کے آپس کے روابط بڑھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے مافی الضمیر بتانے کی سہولت پیدا ہو جاتی ہے اور جماعت کی عالمی یک جہتی میں بہت مفید ہے تو اس لئے مجبور آیہ کام مجھے کرنا پڑا اور اردو میں اب ہمارے جو سبق ہیں یہ جاری ہیں۔اب تک تقریباً تمیں سبق ہو چکے ہیں اور غالباً ابھی باقاعدہ ان کا اجر انہیں ہوا سب ملکوں میں۔وجہ اس کی ہے جو میں ابھی سمجھاؤں گا آپ کو۔یہ جو تمیں سبق ہوئے ہیں ان میں ایسے دوست شامل ہیں جن کو اردو کی الف باء بھی نہیں آتی تھی اور وہ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان سے گفت و شنید ہو رہی ہوتی ہے