خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 942
خطبات طاہر جلد 13 942 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 1994ء لے کر نکلنا تھا اور ہم سے مراد محمد رسول اللہ اللہ کے نمائندہ ہیں۔اگر پیش گوئی کا رنگ دیا جائے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت ”ہم“ کے دائرے کے نیچے تھے ”ہم“ کے سائے کے نیچے تھے۔وہ شخص جو میرے اور میرے نمائندوں پر حملہ آور ہو گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس لیے ایسے لوگوں کا نام خوارج رکھنا بالکل مناسب اور درست تھا اور ارشاد نبوی کے مزاج کے عین مطابق تھا۔دوسرا اس کا معنی روز مرہ کا یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر حملہ آور ہوتا ہے۔وہ شخص جو ظلم کی راہ سے حملہ کرتا ہے وہ باہر ہے اور جو رسول اللہ ﷺ کی ہدایت اور آپ کی سنت کے صلى الله تابع رہتا ہے اور پھر اس پر حملہ ہوتا ہے وہ ”ہم کے سائے میں آجاتا ہے۔تو یہ مراد ہے یہ کوئی ایسا مسلمان جو ایسے مسلمان شخص پر حملہ آور ہو جو میرے سنت کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے اس سے کسی کو کوئی دکھ نہیں پہنچا، کوئی اس نے کسی پر ظلم نہیں کیا ،لوگوں کی بھلائی میں لگا رہتا ہے، ایسا شخص اگر کسی دوسرے بظاہر مسلمان کا نشانہ بنتا ہے تو میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔یہ رسول اللہ ﷺ کا اعلان ہے کہ اس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔تو اپنے معصوم بھائی کو نا جائز دکھ دینا اس حدیث کی رو سے دکھ دینے والے کو صرف دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے انداز سے خارج کرتا ہے جو بہت زیادہ تکلیف دہ انداز ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا یہ کہنا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں بہت بڑی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس مضمون کو قیامت کے دن کے حوالے سے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ عام طور پر تو سزائیں دی گئی ہیں کہ اس کو جہنم کی سزا ملے گی ، فلاں سزا ملے گی لیکن بعض جو بہت ہی بد نصیب لوگ ہیں ان کے متعلق فرمایا اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا، ان پر نظر نہیں ڈالے گا۔تو یہ بہت بڑی سزا ہے، عام سزا سے بڑھ کر روحانی رشتہ توڑ لیا جائے اور انسان کہے میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔تو آنحضرت ﷺ نے یہاں اس کو غیر مسلم تو قرار نہیں دیا لیکن یہ فرمایا ہے یعنی اگر یہ معنے لئے جائیں تو یوں کہیں گے کہ یہ کہنے کی بجائے کہ وہ مسلمان نہیں رہتا فرمایا میں اس کا نہیں ہوں ، وہ میرا نہیں ہے، بس کٹ گیا۔جو رسول اللہ یہ سے کٹ گیا اس کا ایمان کہاں رہنا ہے۔اس کا اسلام کہاں رہنا ہے لیکن اس کو نکالنے کا انداز ایسا ہے جو بہت زیادہ تکلیف دہ ہے پس اپنے بھائی پر کسی قسم کی زیادتی سے باز رہنا لازم ہے صلى الله تیسر احملہ ایسا ہے جو رسول اللہ ﷺ پر اس زمانے میں بھی ہوا کرتا تھا۔وہ زبان کے ہتھیار