خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 941
خطبات طاہر جلد 13 941 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 1994ء چاہئے لیکن وہاں بھی میں نے وضاحت کی تھی کہ بہت سی ایسی احادیث ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایمان کی نشانی یہ ہے کہ ہر انسان سے ایسا سلوک کرے۔تو مسلم کہہ کر جب فرمایا گیا ہے تو یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ کم سے کم اتنا کرو کہ اپنے بھائی جن کو تم بھائی کہتے ہو اور بھائی سمجھتے ہو ان سے تو ایسا سلوک کرو اگر ان سے نہیں کرو گے تو پھر غیروں سے کیسے کر سکو گے۔یہ مراد نہیں ہے کہ کر کے بیٹھ جاؤ اور تسلی پالو کہ ہاں ہم نے حق ادا کر دیا۔یہ سمجھانے کے انداز ہیں اور دوسری احادیث جو عام ہیں وہ ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ معنی بالکل درست ہے۔چنانچہ یہ مومن والی حدیث بھی انہی احادیث میں سے ہے جن کا فیض عام ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کے ساتھ ایسا سلوک کرے۔آپ نے فرمایا ہر ایک سے ایسا سلوک کرے وہی مومن ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو جو کچھ بھی اپنے لئے پسند چاہتا ہے ویسا ہی اس کے لئے چاہے۔انسان اپنے لئے یہ تو نہیں چاہتا کہ کوئی آئے اور میری عزتوں سے کھیلے، کوئی آئے اور میرے مال سے کھیلے، میرے ساتھ ظلم کا سلوک کرے۔پس اپنے نفس کے حوالے سے جو انسان چاہتا ہے اس کو اگر دوسرے کے لئے چاہے تو ساری سوسائٹی امن میں آجائے گی اور یہاں مومن امن دینے والا بھی ہے۔یعنی مومن کے معنی ہیں ایمان لانے والا اور مومن کا دوسرا معنی ہے، امن دینے والا۔اسی طرح مسلم کے معنے بھی حسب حالات بدلتے ہیں اور یہ گنجائش ان لفظوں میں موجود ہیں۔تو فرمایا کہ اصل امن دینے والا دنیا کو وہ شخص ہے جو جیسا اپنے لئے چاہتا ہے ویسا ہی دوسرے اپنے بھائی کے لیے چاہے اور اپنے سکھ دکھ کو ان کے ساتھ بانٹے۔ایک روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابن ماجہ سے لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر حملہ کرتا ہے تو حملہ آور مسلمان نہیں رہتا) یہ تشریح کتر جمہ کرنے والے نے لکھی ہے الفاظ صرف یہ ہیں کہ من حمل علينا السلاح فليس منا (ابن ماجہ ابواب العدو) جو ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اس حدیث کو سمجھنے کے لئے بھی غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ پر مسلمان ہوتے ہوئے کون ہتھیار اٹھا سکتا تھا اور جو اٹھاتا تو آپ میں سے تھا ہی نہیں۔تو یہ کہنے میں کیا حکمت ہے۔اصل میں اس میں بہت سے معانی پوشیدہ ہیں۔اول یہ ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔مسلمانوں پر ایسا بد نصیب وقت آنے والا ہے کہ جبکہ خوارج نے مسلمانوں پر حملہ کرنا تھا اور ہتھیار