خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 943 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 943

خطبات طاہر جلد 13 943 خطبہ جمعہ فرموده 9 / دسمبر 1994ء ہیں ، بدتمیزی اور بداخلاقی کے ہتھیار ہیں، ان سے بعض بد نصیب اس زمانے میں بھی آنحضرت له الا الله پر حملہ کر دیا کرتے تھے اور نظام پرحملہ کیا کرتے تھے۔ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کویہ فرمانا پڑا کہ من عصی امیری فقد عصاني ومن عصاني فقد عصى الله ( مسلم کتاب الامارہ حدیث نمبر : 3416) جس نے میرے امیر سے نافرمانی کا طریق اختیار کیا ہے اس نے مجھ سے نافرمانی کا طریق اختیار کیا ہے، تو وہی مجھ سے کاٹنے والا مضمون بالکل کھل کر سامنے آگیا۔یعنی یہ مراد نہیں کہ تم براہ راست مجھ پر حملہ آور ہو۔یا درکھو جو میرے مقرر کردہ نظام پر حملہ کرتا ہے اس سے بھی میرا تعلق کٹ جاتا ہے، میں اس کا نہیں رہتا۔تو بعض لوگ یہ کہتے ہیں جی ہم تو فلاں عہد یدار کو کہہ رہے ہیں، فلاں شخص کو کہہ رہے ہیں، آپ کو تو نہیں کہہ رہے۔تو ان کو میں یہی جواب دیتا ہوں کہ مجھے کہیں یا نہ کہیں رسول اللہ کی بات میں مانوں گا، آپ یہ محسوس کیا کرتے تھے اور دیکھیں حمایت کتنی بڑی ہے۔اپنے مقرر کردہ عہد یدار کے حق میں نا انصافی کا صلى الله تعلق تو آپ کا تھا ہی نہیں، کسی کی مجال نہیں تھی کہ کسی کا حق مارے اور رسول اللہ ﷺ اس کی حمایت فرمائیں۔یہاں حمایت کا مضمون بتارہا ہے کہ وہ شخص جس پر لوگ زبانیں دراز کرتے ہیں باوجود اس علم کے میرا مقرر کردہ ہے وہ مجھ پر زبان دراز کرتا ہے۔اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے۔اگر زیادتی ہے تو اس کا علاج موجود ہے زیادتی کی اطلاع اس کو کرنی چاہئے جس نے مقرر کیا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ یہ نکتہ اس طرح کھولا کہ بعض وہ لوگ جو پیغامی ذہنیت رکھتے تھے اور بعد میں فتنے کے بعد کھل کر پیغامیت میں داخل ہو گئے۔ان لوگوں میں سے بعض نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول پر بھی اعتراض کئے اور کہا کہ یہ دیکھو یہ تو بوڑھا ہو گیا ہے۔اس کو پتا ہی نہیں چل رہا کہ اچھا کون ہے اور برا کون ہے۔ناجائز حمایت کر رہے ہیں ایک نو جوان کی ( حضرت مصلح موعود مرا تھی تو اس قسم کی باتیں جب حضرت خلیفہ اسی الاول کو پہنچیں تو آپ نے فرمایا۔دیکھو تم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا ہے اب تم میں اختیار ہی نہیں ہے کہ میرے اوپر زبانیں دراز کرو۔اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ بڑھا اس عمر میں آکر اپنا توازن کھو بیٹھا ہے ، غلط کام کر رہا ہے۔تو جس نے مجھے بنایا ہے اس کے پاس شکایت کرو۔اگر تم سچے ہو تو مجھے وہ واپس بلا لے گا لیکن تمہیں حق نہیں دے گا کہ تم زبانیں کھولو اور تم میرے سامنے گستاخی سے پیش آؤ۔اب کتنا اہم نکتہ ہے اور کتنا گہرا نکتہ ہے جو صرف خلافت سے تعلق نہیں رکھتا پورے نظام جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔