خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 939
خطبات طاہر جلد 13 939 خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء حق ہے کہ ہمیں تحفہ دیا جائے۔تو فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر اس نے شکر کا حق ادا نہیں کیا اور یہ جو بات ہے اس میں بھی میں نے دیکھا ہے مزاج مختلف ہیں۔بعض لوگ ایسا مزاج رکھتے ہیں کہ ان کو اگر شکریہ ادا کیا جائے تو شرمندہ ہو جاتے ہیں اور حجاب محسوس کرتے ہیں لیکن جو تشکر ہے وہ بعض دفعہ اپنے چہرے سے ظاہر ہوتا ہے ، اپنے انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔آئندہ کے سلوک اور معاملات سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ بھی اظہار تشکر ہے اور ہر شخص کی طبیعت کی لطافت اور اس کے مزاج کے مطابق شکریہ کا رنگ اختیار کرنا چاہیئے۔جو اس بات کے محتاج ہیں کہ کھلم کھلا شکر یہ ادا کیا جائے لازماً ان کو کھلم کھلا شکر یہ ادا ہونا چاہئے۔جن کے دلوں میں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شخص ممنون ہے اور اس سے زیادہ وہ بار برداشت نہیں کر سکتے ان سے وہی سلوک ہونا چاہئے جو ایسے حساس لوگوں سے واجب ہے جو فطرت بتاتی ہے کہ ہونا چاہئے۔ایک اور حدیث ہے، مسلم کتاب الفصائل سے لی گئی ہے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اشعری قبیلے کی خصوصیت بڑی قابل تعریف ہے۔یہ ایک خصوصیت مراد ہے کہ جب جنگ میں ان کو تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑے یا اپنے شہروں میں اچانک ایسی خوراک کی کمی واقع ہو جائے کہ کچھ لوگ بالکل بھو کے رہ رہے ہوں اور کچھ کے پاس زیادہ ہو تو ایسی صورت میں وہ ہمیشہ اپنے تمام ذخائر کو اکٹھا کر لیتے ہیں اور پھر برابر تقسیم کر دیتے ہیں۔فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةِ (البلد :15 ) یه وه يَوْمٍ ذِى مَسْخَبَةِ کی بات ہو رہی ہے جس کے صلى الله متعلق قرآن کریم نے نصیحت فرمائی۔رسول اللہ ﷺ نے ایک اور قبیلے کے حوالے سے اس کا بیان فرمایا لیکن ساتھ ہی آخر پر فرمایا دراصل ایسے ہی لوگ ہیں جو میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔تو یہ کسی اور سے آپ نے سیکھا نہیں تھا مزاج۔یہ آپ کے اتنے ہم مزاج بات تھی کہ بے ساختہ ایسے لوگوں سے تعلق اور پیار ہوا کہ یہ تو میرے جیسی سوچ سوچتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ یہی بات تھی ایک غزوہ کے موقع پر ملتا ہے کہ جہاں خوراک کی کمی محسوس ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے سب کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ جو کچھ جس کے پاس ہے وہ سب ہی لے آؤ۔چنانچہ وہ سب اکٹھا کر دیا گیا اور پھر سب کو برابر تقسیم کر دیا گیا اور اس میں ایسی برکت پڑی کہ وہ سخت تنگی اور فاقے کا وقت تھا جو سب پر اچھا گزر گیا، آسانی سے وہ مشکل طے ہوگئی۔