خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 940 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 940

خطبات طاہر جلد 13 940 خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء تو یہ دراصل آنحضرت ﷺ کا اپنا فعل تھا لیکن چونکہ قبیلے میں یہ بات پائی جاتی تھی اس لئے اس قبیلے کا حوالہ دے دیا، اس کی تعریف فرما دی اور یہ بھی بہت بڑے دل کی بات ہے۔یہ آپ کی سخاوت قلبی کا پتا چلتا ہے امر واقعہ ہے کہ ان سے نہیں سیکھا تھا لیکن اس خیال سے کہ اگر میری طرف ہی بات رہے تو وہ بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ان کا ذکر خیر پھر کہاں چلے گا۔تو ہمیشہ کے لئے ان کا ذکر خیر محفوظ فرما دیا یہ کہ کر کہ اس قبیلے میں یہ بڑی خوبی پائی جاتی ہے اور آخر پر اس طرح لطیف رنگ میں راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ جو ایسا کرے وہ میرا ہے، میں اس کا ہوں۔وہ مجھ میں سے ہے میں اس میں سے ہوں۔تو معلوم ہوا کہ یہ پہلے سے دل میں باتیں تھیں تبھی وہ قبیلہ اپناگا ہے اس سے سیکھی نہیں ہیں اور یہ ہے بہت اہم بات۔بعض دفعہ قومی ضرورتوں میں ایسا کرنا پڑتا ہے اگر روز مرہ زندگی میں نہیں ہو سکتا تو بعض ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں مثلاً جنگ کے حالات اور کسی وقت کوئی کرائسز آجاتا ہے تو ایسا کرنا پڑتا ہے اور اس کی بہت برکت ہوتی ہے۔ایک دفعہ ربوہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی ترکیب کو استعمال فرمایا اور بہت لطف اٹھایا ہم نے۔جلسے کے موقع پر ایک دفعہ نانبائیوں کا جھگڑا ہو گیا تھا یا کوئی مشکل پیش آگئی تھی تو پتا چلا کہ جتنے مہمان ہیں ان کی روٹیاں فی کس کے حساب سے جو فارمولا ہے اس کے مطابق روٹی نہیں دی جاسکتی تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ سارے ایک روٹی کھائیں گے آج۔میں بھی کھاؤں گا میرے بچے بھی سارے ایک روٹی کھائیں گے اور مہمانوں نے بھی کہا ہم بھی سارے ایک روٹی کھائیں گے اور وہ روٹیاں اس دن کم ہونے کی بجائے اتنی بچ گئیں کہ رات کی زائد ضرورت بھی اس سے پوری ہوگئی۔تو بہت برکت والی نصیحتیں ہیں یہ اور آج کل بھی جو ہمارے قومی مسائل ہیں ان کو حل کرنے میں بہت اہم کردار کر سکتی ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک دوسرے کے لئے بھی وہی چیز پسند نہیں کرتا جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔یعنی اگر اپنے لئے آرام ، بھلائی چاہتا ہے تو دوسرے کے لئے بھی ایسا ہی چاہے۔( بخاری کتاب الایمان ) میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ بعض احادیث میں مسلم کا لفظ آیا ہے اور اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ اخلاق مسلمانوں کے مسلمانوں سے روابط ہی سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ایک مسلمان کے لئے یہ چاہنا