خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 938 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 938

خطبات طاہر جلد 13 938 خطبہ جمعہ فرمودہ 9/ دسمبر 1994ء تمام پہلو بیان فرمائے ہیں۔فرماتے ہیں کسی شخص کو کوئی تحفہ دیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ دے اگر وہ بدلہ دینے کی یعنی بعینہ واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا یا کسی وجہ سے مناسب نہیں سمجھتا۔بعض دفعہ اگر ویسی ہی چیز واپس کی جائے تو دوسرے کی دل شکنی ہوتی ہے، بجائے حوصلہ افزائی کے۔وہ سمجھتا ہے کہ میرا بدلہ اتار دیا گیا ہے۔تو ہر شخص کے اعلیٰ مزاج یا نسبتا ادنی مزاج کے مطابق سلوک ہوتا ہے۔بعض کو تحفہ دینا ان کے لئے دل بڑھانے کا موجب بنتا ہے بعض پر مُردہ ہو جاتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اچھا ہم تو بڑے پیار سے لائے تھے کہ کچھ ہمارا احساس رہے گا لیکن یہ دے کر ہماری وہ بات ختم کر دی تو ان کا بھی علاج ممکن ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ تعریف کے رنگ میں اس کا ذکر کرے،اس کا شکریہ ادا کرے، کہے بہت اچھا ہے۔بہت لطف آیا، بہت میرے دل میں اس کے نتیجے میں تمہارا پیار بڑھا ہے۔اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس نے شکر کا حق ادا کر دیا۔تو بدلے سے مراد بالکل مادی بدلے نہیں ہیں جہاں تو فیق ہو وہ موقع اور محل کے مطابق فوری نہیں کسی وقت وہ بھی ضروری ہے لیکن اتنا کر دینا بھی اس نصیحت پر عمل درآمد کرنے کے مترادف ہے، اس کے عین مطابق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرمارہے ہیں۔کہتے ہیں شکر یہ ایسے احسن رنگ میں ادا کرے کہ تحفے والے کا دل خوش ہو جائے یہی اصل بات ہے۔تھنے کے نتیجے میں دلوں کی خوشی درکار ہوتی ہے وہی مقصود ہوتی ہے کہ اس کا دل اتنا خوش کر دو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ بدلہ اتر گیا ہے۔بعض دفعہ میرا تجربہ ہے بعض لوگوں کو تحفہ دیا جائے تو اتنا زیادہ شکریہ کا اظہار کرتے ہیں کہ آدمی شرمندہ ہو جاتا ہے، یہ وہم بھی باقی نہیں رہتا کہ اس کے اوپر کچھ باقی چڑھا ہوا ہے انسان اس کے اظہار شکر کا ممنون ہو کر زیر بار ہو جاتا ہے۔تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی انسانی فطرت پر بہت گہری نظر تھی اور ایک دنیا کے عظیم معلم کے طور پر لازم تھا کہ آپ کو فطرت کے گہرے راز سکھائے جائیں۔پس ہر موقع اور محل کے مطابق، اس کی مناسبت سے نصیحت آپ نے فرمائی اور کوئی تعلیم اور تربیت کا پہلو باقی نہیں چھوڑا۔فرماتے ہیں اگر کوئی اس کو چھپائے بلکہ ایسا کرے کہ تعریف کا کوئی کلمہ تک نہ منہ سے نکلے، تحفہ ملا ہے منہ بند کر کے، گنگ ہو کر کے بیٹھ گیا ہے۔بعض لوگوں کے دماغ میں ہوتا ہے شاید کہ ہمارا