خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 937
خطبات طاہر جلد 13 937 خطبه جمعه فرمود و 9 دسمبر 1994ء خاندانی جھگڑے لمبے عرصے تک نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ایسی جماعتیں ہیں جن کو اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا ہے جن کے جھگڑے اس طرح ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں منتقل ہوئے ، دوسری سے تیسری میں منتقل ہوئے اور خاندانوں نے اپنی عزت کا معاملہ بنالیا اور ہر نصیحت کرنے والا نا کام ہو جا تا رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بچانا تھا ان کے آباؤ اجداد کی کوئی نیکیاں تھیں جو کام آئیں وہ بچ گئے لیکن بعض ابھی تک نہیں بچ سکے تو آنحضرت ﷺ نے جو اعوذ باللہ کی نصیحت فرمائی ہے یہ بیماری کی جڑ اکھیڑ نے والی نصیحت ہے۔شیطان سے خدا کی پناہ میں آجانے سے یہ سارے قصے و ہیں ختم ہو جاتے ہیں آگے بات نہیں بڑھتی۔موطا امام مالک سے ایک حدیث ہے حضرت عطا بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔مصافحہ کیا کرو اس سے بغض اور کینہ دور ہو جائے گا۔(موطا امام مالک کتاب الجامع حدیث : 1413) اب ہمارے ہاں تو مصافحے کا بہت رواج ماشاء اللہ۔لیکن بعض دفعہ یہ ہوتا ہے واقعہ کہ جس سے انسان کی طبیعت میں تردد ہو، اس کی طرف مصافحے کا ہاتھ نہیں اٹھتا۔یہ ایک بہت گہری نصیحت ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس سوسائٹی کو نصیحت کی جارہی ہے جس سے نفاق کی کوئی توقع نہیں ہے۔اگر منافق مصافحہ کرے تو یہ نتیجہ نکلے گا بلکہ بعض دفعہ اور بد نتائج ظاہر ہو جاتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ نے جب فرمایا کہ مصافحہ کرو اس سے محبت بڑھتی ہے اور غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں یا دلوں کی میل اترتی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت سے یہ توقع ہے بلکہ یقین ہے کہ وہ منافقت سے کوئی حرکت نہیں کریں گے۔اگر کسی شخص کے دل پر میل ہے اور باوجود اس کے آپ مصافحہ کرتے ہیں تو طبعا دو ہی حالتیں ہو سکتی ہیں یا دل میں نفرت قائم رکھی ہوئی ہے تو یہ منافقت ہے اور یا پھر فیصلہ کرتے ہیں کوئی بات نہیں میرا بھائی ہے میں مصافحہ کرتا ہوں وہ مصافحہ دل کو ٹھنڈا کر دیتا ہے پس مصافحے میں بھی بڑی برکت ہے۔اور دوسرا فر مایا اس سے آگے بڑھو تحفے دیا کرو، ایک دوسرے کو تحفے پیش کر و محبت بڑھے گی اور عداوتیں اور رنجشیں دور ہوں گی تو یہ بھی ایک بہت اچھا طریق ہے کہ تحائف کو رواج دیا جائے لیکن جب تحائف دیئے جائیں تو پھر آگے سے کیا سلوک ہونا چاہئے۔یہ تو نہیں کہ چپ کر کے تھے وصول کرتے رہو اور سمجھو بس ٹھیک ہو گیا ، جزاکم اللہ۔آنحضرت میہ نے ہر مضمون جو چھیڑا ہے اس کے