خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 936 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 936

خطبات طاہر جلد 13 936 خطبہ جمعہ فرمودہ9/دسمبر 1994ء مگر آج تک میرے دل میں اس کی جلن نہیں مٹ رہی۔اپنی ماں کو میں نے کیوں ایسا کلمہ کہا۔ایک دفعہ کسی نے اپنے باپ کے متعلق ایسا واقعہ لکھا اور پھر قتل بھی ہو جاتے ہیں لیکن غصے کی بیوقوفی کا جو داغ ہے وہ متا نہیں قتل تو معاف ہو جاتے ہیں لیکن وہ داغ اپنے سینے سے نہیں مٹتا۔پس آنحضرت ﷺ نے اس کا بہترین علاج یہ بیان فرمایا کہ یہ کہا کرو اعوذ بالله من الشيطان الرجیم کہ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان رجیم سے۔تو غصے کو شیطان رجیم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ غصے کی حالت میں بھاری امکان ہے کہ شیطان انسان پر قبضہ کرلے اور اس کا فعل شیطانی فعل بن جائے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آنحضور ﷺ کو مانے یا نہ مانے۔یہ بات تو دنیا کا ہر انسان مانے پر مجبور ہے کہ غصہ انسان کو شیطانی افعال پر مجبور کر دیتا ہے اور وہ اپنے قابو میں نہیں رہتا۔تو بہت سے جھگڑے غصے کی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں اور تو تکار شروع ہو جاتی ہے اور بہت سی گندی بے ہودہ باتیں آجاتی ہیں بیچ میں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پھر وہ ایسے داغ لگا جاتا ہے کہ وہ پھر مٹتے نہیں ہیں اور جھگڑوں میں غصے کے نقصان دو چار نہیں بلکہ بہت ہیں، لامحدود کہنا چاہئے جو افعال سرزد ہوتے ہیں ان کے بعد جو نتائج نکلتے ہیں ان میں پھر اکثر جھوٹ کے شیطان سے مدد مانگنی پڑتی ہے۔وہ شیطان جو ایک دفعہ اتفاقاً تھوڑی دیر کے لیے آیا تھا وہ دائی ساتھی بن جاتا ہے۔چنانچہ غصے کی حالت میں جو حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جب ان پر کارروائیاں ہوں تو پھر ا کثر یہ ملوث لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، جھوٹے گواہ بناتے ہیں، جھوٹے بہانے بناتے ہیں نفس ان کا الجھا رہتا ہے کہ اب میں کیا ترکیب کروں جس کے نتیجہ میں اپنے فعل کی زد سے بچ سکوں اور ساری سوسائٹی گندی ہو جاتی ہے۔پھر غصے میں جو جھگڑا چلتا ہے اس میں اکیلا انسان نہیں رہا کرتا۔ایسے واقعات ہوئے ہیں کسی باپ کی کسی دوسرے شخص سے لڑائی ہوئی ہے۔بیٹا اٹھا ہے اور اس نے جاکے اس کے بیٹوں کو مارا یا اس کے باپ پر حملہ کیا اور پھر جتھے بنتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے گروہ در گروہ اپنی عزتوں کو معاملے بنا لیتے ہیں کہ ہم زیادہ طاقتور ہیں اور وہ کم تر ہے یا ہم زیادہ معزز لوگ ہیں اور وہ ذلیل ہیں۔یعنی جو بھی ہو نفس کے جھگڑے ، نفسانی بچے دیتے ہیں اور یہ خیال کر لینا کہ نفس کا جھگڑ ا و ہیں ختم ہو جائے گا غلط ہے۔نفسانی بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو کئی شیاطین اکٹھے ہو جاتے ہیں یعنی ایسے شیطان ہیں جو خود بچے دینے والے شیطان ہیں اور ان سے پھر پیچھا نہیں چھٹتا۔بعض