خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 924 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 924

خطبات طاہر جلد 13 924 خطبه جمعه فرموده 2 رو نمبر 1994ء دعوی ہے یہ محض ایک فرضی بات نہیں ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے واقعات جو میں آپ کے صلى الله سامنے پڑھ کر سنا رہا ہوں ، یہ سارے واقعات گواہ ہیں ، ایک ایک لفظ ان کا گواہ ہے کہ آنحضور علیہ ایسا ہی دل سینے میں رکھتے تھے ، اپنوں کے لئے بے چین ہونے والا ، غیروں کی تکلیف سے بھی دکھ اٹھانے والا ، یہاں تک دشمنوں کی تکلیف کے تصور سے بھی آپ کی زندگی آپ کے سینے میں ایسی اجیرن ہو جاتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ہلاکت کا لفظ استعمال فرمایا۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کیا تو اپنی جان کو ان دشمنوں کے غم میں ہلاک کر دیگا۔آنحضرت ﷺ کی روز مرہ زندگی کا دستور یہ تھا یہ دستور آج بھی ہمیں اپنانا ہے، آج بھی اسی قسم کے گھر یلو تعلقات کو قائم کرنا ہے تب ہم دنیا میں ایک جنتی معاشرہ دینے کے اہل ہوں گے یا کم سے کم اس کا دعوی کرنے کے مستحق تو سمجھے جائیں گے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی سادہ تھی آپ کسی کام میں عار نہیں سمجھتے تھے۔اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے ، گھر کے کام کاج کرتے ، اپنی جو نتیوں کی مرمت کر لیتے ، کپڑے کے پیوند لگاتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے۔خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے۔آٹا پیتے پیتے اگر وہ تھک جاتا تو آپ اس کی مدد فرماتے ، بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے، امیر وغریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے ،سلام میں پہل کرتے ، اگر کوئی معمولی کھجوروں کی بھی دعوت دیتا تو آپ اسے حقیر نہ سمجھتے۔آپ نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا ، بشاشت سے پیش آتے تقسم آپ کے چہرے پر جھلکتار ہوتا۔آپ زور سے قہقہ نہیں لگایا کرتے تھے کبھی ہنسی آئے اور قہقہہ نکے تو ہاتھ رکھ لیتے تھے یا پگڑی کے شملے سے اپنے منہ کو ڈھانپ لیتے تھے۔تقسم آپ کے چہرے پر ہمیشہ کھیلتا رہتا تھا۔خدا کے خوف سے فکر مند رہتے لیکن ترش روئی اور خشکی نام کونہ تھی ہمنکسر المزاج تھے، اس میں کسی کمزوری، پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا، بڑے سخی لیکن بے جا خرچ کرنے سے ہمیشہ بیچنے والے، نرم دل ، رحیم و کریم، ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آنے والے یعنی بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ تھے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے تھے کہ ڈکار ہی لیتے رہیں نعوذ باللہ من ذالک کبھی حرص وطمع کے جذبے سے ہاتھ نہ