خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 921
خطبات طاہر جلد 13 921 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 / دسمبر 1994ء ہے کہ بعض لوگ اتنا قریب آ کر جھک کے بات کرتے ہیں کہ ان کے سانس میں بد بو ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے بہت بڑا ابتلا انسان پر آتا ہے تو بے اختیار رسول اللہ ﷺ نے معلوم ہوتا ہے اس کو ہٹا دیا کہ ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو۔اگلی بات یہ ہے کہ جب اس سوٹی سے اس کو ہٹانے لگے تو اس کے چہرے پہ ذراسی چوٹ آگئی۔جھکے ہوئے آدمی کو انسان ضروری تو نہیں کہ یوں دیکھ رہا ہو۔سوٹی سے پرے کیا ہے وہ غلطی سے چہرے کے کسی نازک حصے پر لگ گئی اور اس سے اس کو تھوڑا سا زخم پہنچا۔آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا کہ مجھ سے بدلہ لو ا بھی بدلہ لو۔اس نے عرض کیا یا الله رسول اللہ ﷺ ! میں نے معاف کر دیا ہے ( ابوداؤ د کتاب الدیات) لیکن ایک اور موقع پر ایک اور صحابی نے ایک اور ردعمل دکھایا۔حضرت اسید بن حضیر انصاری کے بارے میں روایت ہے کہ وہ بڑے بامذاق تھے مجلس میں کھل کے دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے۔ایک موقع پر معلوم ہوتا ہے ان سے کچھ زیادتی ہوگئی ہے۔یعنی ہنسی مذاق کرنا ان معنوں میں تو معیوب نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابہ نہیں کیا کرتے تھے۔بعض دفعہ آنحضور جو خود بھی بہت مذاق فرماتے تھے لیکن بعض لوگ پھر زیادہ کر دیتے الله ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو یہ بات منظور نہیں تھی کہ کوئی شخص ٹھٹھے باز ہی بن جائے تو اس صورت میں آپ نے اس شخص کو اسی طرح چھڑی چھوٹی کہ ذرا سنبھلو، اشارہ تھا اور میں سمجھتا ہوں اس میں حکمت یہ تھی کہ کھل کر اگر بات کہتے تو باقی مجلس میں شاید اس کی سبکی ہوتی تو آپ نے یہی مناسب سمجھا کہ چھڑی کی نوک سے اس کو میں سمجھا دوں سمجھ جائے گا اشارہ کہ میں کچھ حد سے آگے بڑھ رہا ہوں ،اس پر وہ کہنے لگا حضور میں نے تو بدلہ لینا ہے۔آپ نے مجھے چھڑی چھودی ہے۔حضور نے فرمایا ابدلہ لے ! لو۔اس پر وہ کہنے لگا کہ حضور آپ نے تو قمیص پہنی ہوئی ہے میں تو ننگے بدن ہوں۔آپ نے فرمایا میں قمیص اتارتا ہوں کپڑا اٹھایا کہ آؤ اب بدلہ لے لو۔وہ چمٹ گیا اور بار بار لپٹ کے چومنے لگا۔جہاں جہاں اس کا بس چلتا تھا اس نے چوما، اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ میری کیا مجال تھی کہ میں بدلہ لیتا مجھے تو خدا نے یہ موقع دیا۔(ابوداؤد کتاب الادب حدیث : 4547) یہ حسن محمد مصطفی ﷺ ہے جو ایک چھوٹی سی چوٹ کے مقام سے بھی جنت کے چشمے پھوڑ دیتا ہے موسیٰ کے عصا کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ چٹان پر اس نے عصا مارا اور اس سے چشمے پھوٹ پڑے اور قرآن کریم اس کی گواہی دیتا ہے کہ ایسا ہوا۔لیکن محمد مصطفی اے کے عصا صلى