خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 922
خطبات طاہر جلد 13 922 خطبہ جمعہ فرمود 20 دسمبر 1994ء کی ضرب سے جیسے جنت کے چشمے پھوٹتے ہم نے دیکھے ہیں ان کی کوئی مثال اور کہیں دکھائی نہیں دیتی ، جن لوگوں کی خاطر ان چٹانوں سے چشمے بہائے گئے وہ پتھر دل ہو گئے۔مگر محمد رسول اللہ اللہ نے جن دلوں سے رحمت کے چشمے بہائے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے جنت کی طرف مائل رہنے والے، جنت کی نہروں میں گویا غرقاب دل بن گئے ، ان کے دل سے بھی جنت پھوٹتی ہے۔وہ دل بھی جنت کے لیے بنائے گئے تھے۔تو یہ وہ حسین معاشرہ ہے جو محد رسول کریم ﷺ ہم میں صرف دیکھنا ہی نہیں چاہتے ، اپنے عمل سے اس کی تصویر میں کھینچ کر ہمیں دکھائی ہیں۔ایک اور موقع پر حضرت عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عرب نے ان سے ذکر کیا کہ جنگ میں یعنی کسی ایسے شخص نے ان سے بات کی جس کو وہ جانتے نہیں ہیں۔لیکن یہ پتا ہے کہ تھا وہ عرب اور جنگ حنین کا واقعہ بیان کر رہا ہے۔اور یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ ہیں۔جنگ حنین میں چونکہ بہت سے نئے آنے والے بھی شامل ہو گئے تھے بلکہ ان کی کثرت تھی اس وجہ سے سارے صحابہ اُن سب کو جانتے نہیں تھے۔تو کہتے ہیں کہ ایک عرب نے ان سے ذکر صلى الله کیا کہ جنگ حنین میں بھیڑ کی وجہ سے اس کا پاؤں آنحضور ﷺ کے پاؤں پر جا پڑا۔سخت قسم کی چپلی جو کہتا ہے میں نے پہن رکھی تھی۔اس کی وجہ سے آنحضور ﷺ کا پاؤں کچلا گیا اور سخت زخمی ہو گیا۔حضور نے نے تکلیف کی وجہ سے بے اختیار ہلکا سا کوڑا مارا اور کہا بسم اللہ تم نے میرا پاؤں زخمی کر دیا ہے اور وہ جو کوڑا کا اٹھانا اور مارنا یہ صرف ایک علامتی بے ساختہ اظہار ہوتا ہے۔بعض دفعہ انسان ہاتھ سے دھکیلتا ہے ، بعض دفعہ چھڑی سے دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن کہا کہ بسم اللہ تم نے میرا پاؤں زخمی کر دیا ہے۔کہتے ہیں مجھے اس سے بڑی ندامت ہوئی۔ایسی ندامت کہ ساری رات میں سخت بے چین رہا کہ ہائے مجھ سے یہ کیا غلطی ہوئی۔صبح ہوئی تو کسی نے آواز دی کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں۔کہتے ہیں مجھے اور گھبراہٹ ہوگئی کہ کل کی غلطی کی وجہ سے میری شامت آئی۔اب آنحضور ﷺ مجھ سے ناراضگی کا اظہار فرما ئیں گے۔بہر حال حکم تھا میں حاضر ہوا تو حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ کل تو نے میرا پاؤں کچلا تھا اس وقت میں نے تمہیں ایک ہلکا سا کوڑا مارا تھا مجھے اس کا بہت افسوس ہے۔اس کے بدلے یہ اسی (80) بکریاں تمہیں دے رہا ہوں یہ لے لو اور جو تمہیں تکلیف پہنچی ہے اسکو دل سے نکال دو۔(حدیقۃ الصالحین : 32) کہتے ہیں میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا واقعہ ہے، کیسا