خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 920
خطبات طاہر جلد 13 920 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 دسمبر 1994ء نہ، یہ کام نہیں کرنا۔میں تار دے رہا ہوں کہ میں ہرگز نہیں آؤں گا۔مجھے بڑا تعجب ہوا۔میں نے کہا آپ کی بیوی کے متعلق بتا رہے ہیں فوت ہو رہی ہے۔آپ کہتے ہیں میں نہیں آؤں گا کیا بات ہے۔کہتے ہیں میں خدا سے داؤ مار رہا ہوں۔اس قسم کے الفاظ تھے، میں اللہ کو خوب سمجھتا ہوں اگر میں واپس گیا تو اس نے مرنا تو ہے ہی اور اگر میں واپس نہ گیا تو اللہ پر ڈالوں گا کہ میں تیرے کام میں تھا اور پھر پیچھے میری بیوی ماردی۔تو میں جانتا ہوں اپنے رب کو اس نے کبھی بھی نہیں مرنے دینا اس کو۔یہ سب باتیں ہیں اور پورا ہفتہ بعد میں ٹھہرے اور اسی دوران اطلاع بھی آ گئی کہ بیوی ٹھیک ٹھاک ہے فکر نہ کریں۔تو یہ خدا کے بندے خدا کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح محمد رسول اللہ نے اس کا تعارف کروایا ہے ورنہ خدا کوکون جان سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ پر جس طرح خدا ظاہر ہوا ہے اس طرح آنحضور ﷺ نے ہم پر ظاہر فرما کر ہماری ساری مشکلیں آسان کر دیں اور وہ تجربے کبھی نا کام نہیں ہوتے جو محمد رسول اللہ کے بتائے ہوئے تجربے ہیں، سو فیصد یقینی باتیں ہیں۔پس اپنے خدا سے وہ تعلق قائم کریں جس طرح وہ ہمیں سمجھا رہا ہے ایسے تعلق قائم کرو مجھ سے فائدے اٹھانے ہیں تو یہ طریقے میں تمہیں بتا دیتا ہوں پھر دیکھیں کہ زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ کا اپنا دوسروں سے جو سلوک تھا اب میں اس کے نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ کسی کی ادنی سی تکلیف بھی آپ کو برداشت نہیں تھی ، آپ کو منظور نہیں تھی اور اگر غلطی سے پہنچ جائے تو کیسے بے چین ہو جایا کرتے تھے یعنی نصیحتیں جو فرماتے تھے عمل اس شان سے کیا ہے ان نصیحتوں سے بھی بلند تر مقام آپ کا دکھائی دیتا ہے۔نصیحتیں تو لگتا ہے جس طرح دھند زمین کے ساتھ لپٹی ہوئی ہوتی ہے اور ہم اس دھند میں ایک تصور باندھ رہے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا وجود اس سے بلند دکھائی دیتا ہے۔ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آپ پر جھک گیا۔آپ نے اسے سوئی کی نوک سے ذرا پیچھے کیا یعنی بعض دفعہ لوگ اس طرح تنگ کرتے ہیں اور ان کا سانس سانس میں آنے لگ جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خوشبو سے بہت محبت تھی اور بد بو برداشت نہیں تھی تو یہ وجہ تو نہیں بتائی گئی کہ کیوں آپ نے ہٹایا۔مگر مجھے تجربہ