خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد 13 919 خطبہ جمعہ فرمود و 2 ردسمبر 1994ء قیقت ہے، یہ زندگی کے وسیع تجربے سے بات ثابت ہے تو یہ مراد نہیں کہ اللہ نے وہیں ہاتھ کھینچ لیا جب کام ختم ہوا بلکہ خدا کی مدد بعد میں بھی جاری رہتی ہے۔تو ایک تو یہ مفہوم ہے جس کے تجربے جماعت احمدیہ میں تو اس کثرت سے ہیں کہ شاید ہی کوئی گھر ہو جس کے تجربے میں ایسی باتیں نہ ہوں۔لیکن دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا صرف اس وقت تک ضامن ہے تو پھر کوشش یہ ہونی چاہئے که ساری زندگی میں انسان کسی نہ کسی کے لئے بھلائی کرتا رہے تاکہ ساری زندگی اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی کی طرف متوجہ ہو۔اس ذریعے سے بھلائی کے کاموں کو دوام بخشنے کا ایک طریق ہے، ایک ایسا انداز اختیار کیا گیا ہے جس سے انسان میں بھلائی کے رجحان کو دوام ملتا ہے، اسے ہمیشہ کے لئے بھلائی کی طرف متوجہ رہنے کی تلقین ہوتی ہے اور جس کے لئے اللہ کوشاں رہے اس کے لئے پھر اور حاجت کیا رہ جاتی ہے باقی۔جیسا میں نے کہا ہے اتنے کثرت سے واقعات ہوتے ہیں جماعت میں اور بعض صحابہ نے تو اس گھر کو ایسا پکڑا کہ ساری عمر اس سے لطف اٹھائے اور مزے بھی کئے اور کام بھی بنوائے۔میں نے حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کی مثال پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں بیان کی تھی لیکن وہ اس موقع پر ایسی چسپاں ہوتی ہے کہ اگر پھر بھی بیان کر دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔بڑی ایک روح کو تازہ کرنے والی مثال ہے۔ایک دفعہ بنگلہ دیش جب ہم گئے جماعت کے وفد کی صورت میں۔تو اس میں حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری بھی ہمارے ساتھ تھے اور بہت دلچسپ سفر تھا، کافی جماعتیں پھرے۔آخری دنوں میں جب ہم ڈھا کہ پہنچے تو ڈھاکہ کی جماعت نے وفد کے اعزاز میں ایک ہوٹل میں ایک دعوت کی ہوئی تھی۔اسی وقت وہاں ایک تار پیش کی گئی جس میں یہ تھا کہ مولوی قدت اللہ صاحب سنوری کی بیوی اتنی خطر ناک بیماری میں مبتلا ہیں اور اس مرحلے تک بیماری پہنچ گئی ہے کہ آج نہیں تو کل تک وہ ڈاکٹری خیال کے مطابق فوت ہو جائیں گی اس لئے درخواست ہے کہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کو فوری طور پر واپس بھجوا دیا جائے یا پھر ان کے لئے تار تھی انہی کے نام ہوگی تو یہ تھا کہ آپ فوری طور پر واپس آ جائیں تو انہوں نے پڑھی اور بعض دفعہ کھانسی اس طرح کیا کرتے تھے کہ اوہوں اور جیب میں کاغذ مروڑ کر ڈال لیا۔میں نے ان سے پوچھا کہ مولوی صاحب کیا بات ہے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تار آئی ہے میری طرف گھر کی طرف سے، تو میں نے کہا پھر چند دن تو رہ گئے ہیں سفر میں آپ چلے جائیں واپس۔کہتے ہیں نہ نہ