خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 918 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 918

خطبات طاہر جلد 13 918 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 /دسمبر 1994ء آپ خدا کے بندوں سے وہ سلوک کریں جس سلوک کی آپ خدا سے توقع رکھتے ہیں۔اتنا آسان، اتنا واضح ، اتنا معقول فارمولا ہے کہ جسے سمجھانے کے لئے کسی بڑی منطق کی ضرورت نہیں ہے۔آپ خدا کے بندوں سے حسن سلوک کریں اللہ آپ سے وعدہ فرماتا ہے کہ آپ سے حسن سلوک کرے گا اور جتنا آپ کریں گے اس سے بڑھ کر وہ حسن سلوک فرمائے گا۔پس اس پہلو سے اتنے آسان خزانے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں، آسان خزانے جن کو حاصل کرنا بہت آسان ہے اس کے باوجود اگر ہم فاقہ کشی میں زندگی بسر کریں اور ان خزانوں سے استفادہ نہ کریں تو اس سے بڑی خود کشی اور کیا ہوسکتی ہے۔پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔صرف آخرت کی پردہ پوشی کا کیا فائدہ اگر یہاں عمر بھر ہم دنیا کے سامنے ننگے اور ذلیل ہوتے رہے۔اس خیال سے اللہ تعالیٰ نے دنیا کا بھی وعدہ فرما دیا ہے اور جس کی دنیا میں پردہ پوشی ہوگی اس کو توقع رکھنی چاہئے کہ آخرت میں بھی یہ سلوک ہوگا تو پھر بھائی کے تن سے کپڑے اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔اپنی بہن کو ننگا دکھانے کا کیا مطلب ہے۔پس اتنا آسان فارمولا ہے جیسے تم ہو ویسا ہی تم سے سلوک کیا جائے گا۔یہ ہر زندگی کی دلچپسی پہ حاوی ہے اور بہت ہی آسانیاں پیدا کرنے والا ایک نسخہ ہے جو ہر کسی کے بس میں ہے۔کوئی مشکل نیکی نہیں کرنی۔کھڑے ہو کر عبادتیں نہیں کرنی ، صرف اپنے رجحان میں کچھ پاکیزگی، کچھ شرافت، کچھ حیا پیدا کرنی ہے۔دوسروں کی حیاء کو اپنی حیا سمجھنا ہے اور پھر توقع رکھیں کہاللہ تعالیٰ آپ سے غیر معمولی حسن سلوک فرمائے گا۔پھر فرمایا، اللہ تعالیٰ اس شخص کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگار ہے یعنی جس وقت کوئی شخص اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوا ہے اس وقت تک اس عرصے میں خدا تعالیٰ اس کا مدد گار ہے۔یہ حدیث کا بیان بھی تھوڑا سا اشکال رکھتا ہے۔کیا مطلب ہے کہ ادھر مدد چھوڑی اور خدا نے مدد سے ہاتھ کھینچ لئے۔یہ دراصل مدد کے رجحان کو ساری زندگی پر پھیلانے کے لئے ایک عمدہ نصیحت ہے۔اس کے کئی معانی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنے بھائی کے لئے اپنا وقت خرچ کر رہا ہے اور اپنے کاموں سے اس عرصہ میں وہ غافل رہا اور خطرہ ہے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا ہو ایسے شخص کو تسلی دی گئی ہے کہ تم نے جتنا وقت خدا کی خاطر خرچ کیا تھا تمہیں اور تمہارے اقرباء کو خدا اس کا نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔اللہ تمہارے کام اس عرصے میں خود کرے گا اور کروائے گا اور یہ