خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 911 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 911

خطبات طاہر جلد 13 911 خطبہ جمعہ فرموده 2 دسمبر 1994ء پس ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی ستاری چاہتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ اپنے بھائی سے ستاری سے کام لے کجا یہ کہ پردے اٹھا اٹھا کر جھانکے۔ستاری کا مفہوم تو یہ ہے کہ ہم ننگے ہیں اور اللہ کی نظر میں ہمارے سب عیوب ہیں اس کے باوجود ہمیں ڈھانپتا ہے۔جیسے سردیوں کی راتوں میں بعض مائیں اپنے بچوں کو اٹھ اٹھ کر ڈھانپتی ہیں۔کہیں سے بدن باہر نکلا ہوتو اس خطرے سے کہ اس کو تکلیف نہ پہنچے یعنی ہر قسم کے جراثیم فضاؤں میں ہیں۔ٹھنڈ کے وقت حملہ کر دیتے ہیں تو ان سے ڈھانپنے کے لئے مائیں بعض دفعہ بے چین ہو ہو کر راتوں کو اٹھتی ہیں۔تشویش کی وجہ سے اٹھتی ہیں اور اکثر بچوں کے اوپر سے کپڑے اترے ہوئے ہوتے ہیں۔انسان تو ایسا ننگا ہے کہ اس کی کہانی کا آغاز ہی ننگ سے ہوا ہے۔حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ ننگا ہو گیا تھا اور پھر مغفرت کے لئے اپنا تن ڈھانپنے کے لئے جنت کے پتے ڈھونڈتا رہا ان سے اپنے تن کو ڈھانپنے کی کوشش کرتا رہا اور اللہ نے اسے سمجھایا کہ کیسے تن کو ڈھانپا جاتا ہے اور وہ مغفرت کی دعائیں سکھائیں جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس کی عورہ کو ڈھانپ لیا، اس کے ننگ کو ڈھانپ لیا۔ہم تو وہ انسان ہیں جن کی کہانی کا آغاز ہی ننگ سے ہوا ہے اس لئے کوئی یہ کہے کہ آدم تو نگا تھا میں نگا نہیں ہوں۔آدم کے عیوب تو چھپے ہوئے نہیں تھے میرے عیوب چھپے ہوئے ہیں اور میرے قبضے میں ہیں وہ شخص بڑا ہی جاہل ہوگا اور جوننگ کا فلسفہ ہے اس سے کلیہ ناواقف ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ ننگ کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر انسان ننگا ہے سوائے اس کے کہ اللہ اس پرستاری کی چادر ڈالے اور جب آپ کسی کے عیوب کو تلاش کرتے ہیں تو خدا کی مخالفت کرتے ہیں۔خدا نے جو ستاری کی چادر ڈالی ہوئی ہے اسے اٹھا اٹھا کے جھانکتے ہیں۔اس کو اللہ تعالیٰ برداشت نہیں کرتا اور آنحضرت ﷺ خبر دیتے ہیں کہ پھر اللہ اپنی چادر اس سے کھینچ لیتا ہے اور خدا کی مغفرت اور اس کی ستاری کی چادر نہ ہو تو ہر انسان ہے ہی ننگا ، عیوب سے بھرا پڑا ہے تو اس سے زیادہ اور کس طریق سے وضاحت کے ساتھ اور بڑے دردناک طریق پر لوگوں کو عیوب کی تلاش سے منع کیا جا سکتا تھا۔اس حدیث کے سننے کے بعد، اس پر غور کرنے کے بعد انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اپنے بھائی کے عیوب کی تلاش میں رہے اور پھر تلاش کے بعد ان کی پردہ دری کرے۔ان کو دنیا کے صلى الله