خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 910 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 910

خطبات طاہر جلد 13 910 خطبہ جمعہ فرمود و 2 / دسمبر 1994ء جاتے ہیں۔پس یہ محنت ہے جس سے تھکنا نہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم آخری دم تک تھکے بغیر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کو اپنی سیرت بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔جہاں تک چغلی کا تعلق ہے اور اس سے ملتے جلتے عیوب کا تعلق ہے ان میں بنیادی بات وہی احساس کمتری ہے جو میں نے پہلے بیان کی تھی۔اپنے بھائی کی کسی خوبی کو برداشت نہ کر سکنا اور احساس کمتری کا بدلہ اس طرح لینا کہ اس کی خوبی کو بدی بنا کر دکھایا جائے یا بدیوں کی تلاش کی جائے اور انہیں باہر نکال کر اچھالا جائے تاکہ لوگوں کی نظر میں جو اس کی عزت ہے وہ جاتی رہے۔اس قسم کی تمام فتیح حرکتیں قرآن کریم نے کلیہ منع فرمائی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو ہمارے سامنے مختلف رنگ میں کھولا ہے۔عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنه قَالَ: صَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ الا الله الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعِ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيْمَانُ إِلَى قَلْبِهِ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تُعَيّرُوهُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ۔فَإِنَّهُ مَنْ يَّتَّبِعُ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ۔( ترمذی ابواب البر والصلة : 1955) ترمذی ابواب البر والصلۃہ سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر بڑی پر شوکت اور بلند آواز سے فرمایا کہ اے لوگو تم میں سے بعض بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں ابھی ایمان راسخ نہیں ہوا۔انہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے ذریعے تکلیف نہ دیں۔یعنی وہ جو اپنی زبان اپنے بھائیوں صلى الله پر دراز کرتا ہے اور طعنے دے کر ان کو تکلیف دیتا ہے ان کے متعلق آنحضور ﷺ نے بڑے جلال کے ساتھ بڑی پر شوکت آواز میں فرمایا کہ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں فرمایا وہ مسلمانوں کو اپنے طعن و تشنیع سے تکلیف نہ دیں۔نہ ان کے عیبوں کا کھوج لگاتے پھریں ورنہ یا درکھیں کہ جو شخص کسی کے عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ اس کے اندر کے عیوب کو لوگوں پر ظاہر کر کے اس کو ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔پس اس سے زیادہ خوفناک اور کیا سزا انسان کو مل سکتی ہے کہ آپ اپنے بھائی کے عیبوں کی تلاش میں ہوں اور اللہ جو آپ کے عیوب کو جانتا ہے وہ اپنی ستاری کا پردہ اٹھا لے اور آپ دنیا کے سامنے ننگے ہو جائیں۔