خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 912 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 912

خطبات طاہر جلد 13 912 خطبہ جمعہ فرمود و 2 دسمبر 1994ء سامنے اس لئے ظاہر کرے کہ وہ اسے ذلیل اور رسوا سمجھیں۔آنحضور فرماتے ہیں کہ خدا تو ایسا ہے جو وہ ظاہر کر دے تو کوئی چیز پھر اس کو چھپا نہیں سکے گی۔پھر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا اور یہ تر مذی کتاب البر والصلہ سے روایت لی گئی ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔طعنہ زنی کرنے والا دوسروں پر لعنت کرنے والا اور منش حرکتیں کرنے والا ، جو معیوب اور ناپسندیدہ، بے ہودہ حرکتیں ہوں اور زبان کا گندا ، بدکلام، بدگو، یاوہ گوئی کرنے والا ان میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہے ليس بمومن (ترمذی کتاب البر والصلہ حدیث: 1900) پس مومن کی تعریف سے یہ ساری چیزیں نکال کے اس طرح باہر کر دی گئی ہیں کہ جس میں یہ موجود ہوں وہ مومن کی تعریف میں داخل ہی نہیں ہوتا بیک وقت دونوں چیزیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔تو ہر شخص جو مومن کہلانے کا دعویدار ہے، مومن بنے کی تمنا رکھتا ہے اسے معلوم تو ہونا چاہئے کہ وہ کون سی باتیں ہیں جو اس کے ایمان کو باطل کر دیں گی۔ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور یہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے ) اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آجاتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔(الترغیب والترہیت ) اب یہ جو محاورہ ہے کہ دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آجانا اور اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آنا ، یہ اصل میں حضرت صلى الله اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہی کا فرمودہ محاورہ ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ اپنی آنکھ میں اگر ذرہ سا بھی تنکا یا تنکے کا ایک حصہ بھی ہو جو اسے تکلیف دیتا ہو تو وہ انسان کو نمایاں ہو کر دکھائی دیتا ہے یوں لگتا ہے جیسے شہتیر داخل ہو گیا ہے اور دوسرے کی آنکھ میں جو تکلیف دینے والی چیزیں ہیں وہ اس کو دکھائی نہیں دیتیں۔یہاں شہتیر اور تنکے کی مثال میں یہ فرق ہے یعنی عام روز مرہ کے انسانی تجربے سے یہ فرق ہے کہ یہاں اپنی آنکھ کے تنکے سے مراد وہ برائی ہے جو موجود ہے اور وہاں موجود ہے جہاں دکھائی دینی چاہئے ، وہ تمہیں دکھائی نہیں دیتی۔اب آنکھ سے زیادہ اور کون سی جگہ ہے جہاں برائی کا علم ہو جانا چاہئے ، جہاں معمولی سا ایک ذرہ بھی داخل ہو جائے تو آپ کو پتا لگ جاتا ہے کہ کوئی غیر چیز آگئی ہے اور آنکھ جو دیکھنے کے لئے بنائی گئی ہے اسے اپنے اندر موجود اپنی برائیاں دکھائی نہیں دیتیں اور دوسرے کی آنکھ میں معمولی سا بھی نقص ہو کوئی ، برائی کوئی ذرہ بھی پایا جاتا ہوتو اتنا بڑا ہوکر دکھائی دیتا ہے کہ آنحضور نے فرمایا جیسے الجزعہ ہو۔جزعہ کھجور کے اس تنے کو کہتے ہیں جسے کاٹ کر شہتیر میں تبدیل