خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 873
خطبات طاہر جلد 13 873 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ خبر نہیں ہوتی بلکہ ایک تبصرہ ہے جس میں وہ مجلس شریک ہے۔وہ تبصرہ اور اس خبر میں ایک فرق ہے حالانکہ دونوں غیبت کے قریب قریب ہیں۔اس لئے یہ مضمون باریک بھی ہے اور منتشر بھی ہے لیکن جہاں تک معاشرے کی اقدار کی حفاظت کا تعلق ہے یہ بہت ہی اہم مضمون ہے۔اس کو اگر آپ نے نہ سمجھا اور اس کا حق ادا نہ کیا تو بارہا آپ نفرتوں کا بیج بونے کے ذمہ دار ہوں گے۔بارہا اپنے معصوم بھائیوں کے ساتھ منافقانہ تعلق رکھ رکھ کر آپ ایک منافق انسان بن جائیں گے اور منافقت جب ایک جگہ پیدا ہو جائے تو دوسری جگہ بھی اس کے پیدا ہونے کے احتمال پیدا ہو جاتے ہیں۔جو شخص عادتاً منافق ہو جائے ، عادتا منافق بنانے کے لئے غیبت اس کا سب سے بڑا مددگار ہو جاتی ہے، عادتا منافق ہو جائے یعنی کسی کے متعلق باتیں کرنا پیٹھ پیچھے اور اس کے سامنے ایسا تاثر پیدا کرنا کہ گویا وہ جو باتیں کہہ رہا تھا اس کے برعکس اس کے متعلق اندازے رکھتا ہے۔نظریات وتعلقات اس سے بالکل مختلف ہیں یہ منافقت ہے اور منافقت اگر انسانوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہ پھر رفتہ رفتہ دین میں بھی داخل ہوتی ہے۔منافقت نظام جماعت میں بھی پیدا ہوتی ہے اور اپنے صدر، اپنے قائد، اپنے زعیم ، اپنے امیر، اپنے دوسرے عہدیداروں سے بھی پھر یہ منافقانہ سلوک شروع ہو جاتا ہے اور وہ غیبت جوفرد کی ہوتی تھی وہ نظام کی بن جاتی ہے اور نظام کی غیبت اس سے بھی بڑا گناہ ہے کیونکہ اس میں خدا کے کام کرنے والوں کے خلاف ایسا ظن پھیلتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگ ان سے نسبتا کم تعاون کرنے لگتے ہیں اور ان کی طبیعتیں اچاٹ ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ غیبت جب ان کی کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں اچھا پھر یہ دین ہے تو ہم الگ ہو جاتے ہیں۔اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں اور اس کے ذمہ دار وہ ظالم ہیں جو پہلے افراد کی غیبت پر جرات کرتے ہیں، بے با کی دکھاتے ہیں۔پھر طبعی طور پر ان کے اندر منافقت پیدا ہوتی ہے اور منافقانہ رنگ میں وہ نظام جماعت پر بھی حملے کرتے ہیں اور نظام جماعت چلانے والے ذمہ دار افسران پر بھی حملے کرتے ہیں اور ہر جگہ آپ یہ قدر مشترک دیکھیں گے کہ نفرت پہلے ہے اور غیبت بعد میں ہے۔محبت اور غیبت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔پیار اور خلوص کا تعلق اور غیبت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔پس کئی طرح سے ہم غیبت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ان میں ایک یہ مثبت طریق ہے کہ اپنے تعلقات کو دوسروں سے محبت کے رشتوں سے استوار کریں اور نظام جماعت سے بھی محبت پیدا کریں