خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 869
خطبات طاہر جلد 13 869 خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1994ء غیبت کر رہے ہیں اگر ایسا ہو تو بنیادی طور پر ان کے تعلقات کے نظام میں کوئی ایسا رخنہ ہے جسے پاگل پن کہا جا سکتا ہے۔ مگر غیبت اور کسی شخص سے پر خاش رکھنا، کوئی اس کے متعلق حسد کا پیدا ہونا اس قسم کے محرکات ہیں جو تجسس کی پہلے عادت ڈالتے ہیں اور پھر جب تجسس ان کے سامنے کوئی تصورات پیش کرتا ہے، حقائق نہیں بلکہ وہ ظن جو ان کی عادت میں داخل ہے۔ تجسس کے نتیجے میں اندازے لگاتا ہے کہ ہم یہاں تک تو پہنچ گئے ہیں اندر کمرے میں جا کر تو نہیں دیکھا مگر صاف پتا لگتا ہے کہ یہ ہورہا ہوگا اور چونکہ بد نیتی سے ہی اس سفر کا آغاز ہے اس لئے جو بھی ماحصل ہے وہ یقینی ہو یا غیر یقینی ہو وہ اسے آگے مجالس لئے ہے ہو وہ میں بیان کرتے اور اس کے چسکے لیتے ہیں۔ یہ ایک پورا نفسیاتی سفر ہے جو غیبت کرنے والا اختیار کرتا ہے۔ جس کو قرآن کریم نے سلسلہ بہ سلسلہ اسی طرح بیان فرمایا جیسے انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے لیکن غیبت کی صرف یہ وجہ نہیں۔ یہ مراد نہیں ہے کہ اس کے سوا اور کوئی غیبت نہیں ہے۔ غیبت بغیر تجس کے بھی پیدا ہوتی ہے۔ غیبت ایک شخص کی بدی جو کھل کر اس کے سامنے آئی ہے اور تجسس کے نتیجے میں نہیں اس کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس میں دور کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے ان لوگوں کو پہنچانا جو اس کو سن کر اس شخص سے اور دور ہٹ جائیں گے اور اس کی اس شخص سے دشمنی میں اس کے طرف دار ہو جائیں گے۔ یہ نیت بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ حقائق پر مبنی غیبتیں بھی کی جاتی ہیں اور ہر نیت کا ٹیڑھا ہونا لازم ہے ورنہ یہ گناہ نہیں ہے۔ صلى الله ایک موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے سامنے کسی شخص کی بات بیان کی اور ان کو یہ شک گزرا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ غیبت تو نہیں ہو رہی ۔ وہ شخص موجود نہیں تھا۔ مگر وہ جن کو منصب عطا ہوتا ہے، بعض ذمہ داریاں عطا ہوتی ہیں، بعض دفعہ وہ اپنے تبصرے کو بعض دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور مقصد یہ نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ ان سننے والوں کے درمیان کوئی نفرت کی خلیج پیدا کریں یا دوریاں پیدا کریں بلکہ ایک قسم کی نصیحت ہوتی ہے۔ ایک مثال کو پیش کرتے ہوئے کہ دیکھو یہ نا پسندیدہ فعل تھا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے اور اس سے زیادہ چونکہ نیت میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ کے حضور اسے ہرگز غیبت شمار نہیں کیا جائے گا۔ نہ کبھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے غیبت فرمائی۔ پس غیبت کے موضوع پر مختلف صلى الله عروسة۔ احادیث پر نظر رکھ کر جو قطعی نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ اس نیت سے خواہ برائی تلاش کی جائے یا برائی