خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 868

خطبات طاہر جلد 13 868 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء اندازے لگانے سے اجتناب کیا کرو اور بہت زیادہ عادت جو ہے تخمینوں کی کہ یہ ہوا ہوگا اور یہ ہوا ہوگا یہ ایک ایسی مہلک عادت ہے کہ ان اندازوں میں سے بعض یقینا گناہ ہوتے ہیں پس تم ایک ایسے میدان میں پھرتے ہو جس میدان میں خطر ناک گڑھے ہیں یا جنگل کے درندے ہیں تم سمجھتے ہو کہ تم دیکھ بھال کر قدم اٹھا رہے ہو مگر جو ایسے خطرے مول لیتا ہے یقینا اس کا پاؤں کہیں نہ کہیں رپٹ جاتا ہے غلطی سے کسی گڑھے میں پڑ جاتا ہے یا کسی درندے کے چھپنے کی جگہ کے قریب سے گزرتا ہے اور اسے حملے کی دعوت دیتا ہے۔تو مراد یہ ہے کہ ہر فن گناہ نہیں ہے یہ درست ہے۔بعض ظن جو درست ہوں، حقیقت پر مبنی ہوں وہ خدا کے نزدیک گناہ نہیں لیکن ظن کرنے کی عادت خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں ہرگز بعید نہیں کہ تم سے بڑے گناہ سرزد ہوں۔دوسری بات یہ فرمائی کہ تجسس بھی نہ کیا کرو ظن کا جو تعلق ہے وہ تجس سے بہت گہرا ہے۔جب انسان کو یہ شوق ہو کہ کسی کی کوئی کمزوری معلوم کرے تو اس وقت جوظن ہیں وہ زیادہ گناہ کے قریب ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنے بھائی یا اپنی بہن میں بدی ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اور تجسس کی عادت اگر فن کی عادت کے ساتھ مل جائے تو بہت بڑا احتمال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ شخص گنہگار ہوگا۔پس اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ فرما دیا۔وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا اور کوئی تم میں سے کسی دوسرے شخص کی غیبت نہ کرے یعنی اس کی غیو بت میں، اس کی عدم موجودگی میں اس پر تبصرے نہ کیا کرے۔اب یہ پہلا جو مضمون بیان ہو رہا ہے اس کا آخری طبعی نتیجہ ہے۔جو شخص ظن کی عادت رکھتا ہے جلدی سے نتائج نکالتا ہے کہ یہ ہوا ہوگا اور جو شخص تجسس کی عادت رکھتا ہے وہ اپنے ظن کو گناہ کے قریب تر پہنچاتا ہے کیونکہ تجس کا مطلب ہے اسے شوق ہے کچھ معلوم کرنے کا۔اس لئے بے وجہ طن نہیں کر رہا، یونہی اتفاقا ظن نہیں کر رہا بلکہ کسی خاص مقصد کی تلاش میں اس کا ظن ہے اور ایسے موقع پر وہ نتیجہ نکالنا جو غلط ہے اور محض اپنے تجسس کے شوق میں اس نے نکالا ہے یہ ایک طبعی بات ہے یعنی ایسا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔تیسری صورت میں جب تجسس کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے۔بنیادی طور پر اس کو اپنے بھائی یا بہن سے کوئی دبی ہوئی مخفی نفرت ہوتی ہے۔وہ پسند نہیں ہوتا اور غیبت اس کی کی جاتی ہے جو پسند نہ ہو۔کبھی آپ نہیں دیکھیں گے کہ ماں باپ بیٹھ کر بچوں کی غیبت کر رہے ہیں یا بچے بیٹھ کر ماں باپ کی