خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 862
خطبات طاہر جلد 13 862 خطبہ جمعہ فرموده 11 نومبر 1994ء اب مسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث ہے۔حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا ہے اسے بھی دے اور جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگذر کر۔پس یہ اسی مضمون کی اور شاخیں ہیں جو شروع سے میں بیان کر رہا ہوں ہر نیکی اپنی مختلف شاخیں رکھتی ہے اور آنحضرت ﷺ ہر نیکی کو اس طرح تفصیل سے بیان فرماتے ہیں کہ اس کی جڑوں کے اوپر بھی روشنی ڈالتے ہیں، اس کے تنے پر بھی روشنی ڈالتے ہیں، اس کے رنگ، اس کی خوشبو، اس کے پھول پتوں پر، جو شاخیں پھیلتی ہیں ان کی بھی پیروی فرماتے ہیں ہر بات کو پوری طرح کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔فرماتے ہیں بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور اکثر معاشرے کی خرابیوں میں جب تحقیق کی جاتی ہے تو کہتے ہیں اس نے تعلق تو ڑا ہے، اس نے کاٹا ہے، وہ ذمہ دار ہے۔رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ٹھیک ہے تم نے نہیں توڑا۔جس نے توڑا ہے اس سے تعلق رکھو گے تو پھر میرے نزدیک تم صاحب فضیلت ہو۔جو تعلق قائم رکھتا ہے اس سے تعلق قائم رکھنا کون سی فضیلت ہے۔تعلق کے جواب میں تو تعلق خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔غیر بھی اگر آپ سے پیار کا اظہار کرے تو آپ کو فوری طور پر اس سے کچھ تعلق پیدا ہو جاتا ہے، رستہ چلتے مسافر کسی سے آپ پیار سے بات کر لیں تو وہ آپ سے تعلق قائم کر لیتا ہے۔اس لئے یہ بہت بڑی حکمت کی بات ہے فرمایا بڑی فضیلت یہ ہے کہ قطع تعلق وہ کر رہا ہے اور تو اس سے تعلق رکھے اس کو فضیلت کہتے ہیں۔اور یہی وہ چیز ہے اگر وہ اپنالی جائے تو معاشرے سے بہت بڑے فسادات ختم ہو جا ئیں بہت تکلیف دہ واقعات رونما ہوتے ہیں اور ان میں سے مختلف وجوہات ہیں جو بعض میں بیان کر چکا ہوں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کہتے ہیں اس نے پہل کی ہے اس نے ہم سے منہ موڑا ہے اس نے فلاں رشتے پر ہمیں بلایا نہیں۔اس کا حق تھا اپنی بہن کا خیال رکھتا اس نے تعلق کاٹ لیا اب ہم کیوں ایسی بات کریں۔سبک سربن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو؟ (دیوان غالب) یعنی وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی سرگرانی کرے گا تو ہم نے سر جھکایا، ہم ہلکے سر والے