خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 861 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 861

خطبات طاہر جلد 13 861 خطبہ جمعہ فرموده 11 / نومبر 1994ء کس نے کٹتے دیکھا ہے۔مگر ایک خیال ایک تصور ہے شاعر کا اور مراد اس کی انسانی تعلقات کے دائرے سے ہے ورنہ ظاہر پہ تو پھول کی پتی سے تو ہیرے کا جگر نہیں کٹا کرتا مگر بعض دفعہ ایک نرم بات میں اتنی تاثیر ہوتی ہے کہ ہیرا جو شیشوں کو بھی کاٹ دیتا ہے سخت سے سخت چیز کو کاٹ دیتا ہے وہ بھی دو نیم ہو جاتا ہے اس نرم بات کے اثر سے۔تو یہ مراد ہے خندہ پیشانی کو معمولی نہ سمجھو۔دونوں باتیں اس میں ہیں ایک تو یہ کہ خندہ پیشانی کا خلق تو امت محمدیہ میں ایسا عام ہونا چاہئے کہ رسول اللہ اللہ کے نزدیک گویا کوئی نیکی ہی نہیں ہے۔معمولی سے معمولی چیز ہے یہ تو روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہونا چاہئے۔لیکن دوسرا مضمون بھی ہے اس میں کہ اسے معمولی نہ سمجھو بہت بڑی چیز ہے۔خندہ پیشانی سے یہ دنیا جنت بن جاتی ہے اور یہ وہ مضمون کا پہلو ہے جس کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے معمولی نہ سمجھو سے مراد یہ نہیں کہ یہ کر لیا کرو کوئی بات نہیں واقعہ بہت عظیم چیز ہے بعض دفعہ معمولی نہ سمجھو سے یہ مراد ہوتی ہے بہت بڑی طاقت ہے اس میں۔اور خندہ پیشانی کا اگر ہم رواج اپنی جماعت میں ڈال لیں اور یہ رواج گھروں سے چلنا چاہئے۔بیویاں اپنے خاوندوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں ، خاوند اپنی بیویوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں ، بہنیں بھائیوں سے، بھائی بہنوں سے اور بڑے چھوٹوں سے بھی صرف چھوٹوں کو ہی نہ تلقین کریں بلکہ چھوٹوں سے بھی عزت اور احترام سے ملیں اور خندہ پیشانی سے پیش آئیں تو ہر گھر ایک جنت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور یہی گھروں کی جنت پھیلے گی اور معاشرے میں داخل ہو گی اسی سے شہر سدھریں گے، اسی سے ملکوں میں تبدیلی آئے گی یہی وہ طاقت ہے جس نے تمام دنیا کی کایا پلٹ دینی ہے، انقلاب برپا کر دینا ہے۔پس احمدیوں کو جو تبلیغ کا غیر معمولی جذبہ رکھتے ہیں ان کو خندہ پیشانی اختیار کرنا چاہئے کیونکہ میرا یہ تجربہ ہے، ہمیشہ سے یہی تجربہ ہے کہ زیادہ عاقل اور تعلیم یافتہ مبلغ سے خندہ پیشانی کا طریق اختیار کرنے والا مبلغ ہمیشہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔جس کی باتیں میٹھی ہوں اس کے بول دلوں میں اترتے ہیں اور لوگوں کے بس میں نہیں رہتا اس کا انکار۔اس کی ذات میں جو ایک جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے اس سے پھر دراصل ان کی توجہ اس کی ذات سے ہٹ کر اس کے پیغام کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔پس خندہ پیشانی کو معمولی نیکی نہ سمجھو یہ مضمون بہت گہرا ہے اور اس میں ڈوب کر اس پر غور کریں تو آپ کو خصوصیت سے تربیت اور تبلیغ کا ایک بہت بڑا اور کار آمد اور مجرب نسخہ ہاتھ آجائے گا۔