خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد 13 863 خطبہ جمعہ فرموده 11 / نومبر 1994ء کہلائیں گے۔یہ شاعری کی باتیں ہیں فضول، بے ہودہ، اعلیٰ اخلاق کے مضامین نہیں ہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں تم سبک سر بنو گے تو خدا کے حضور تمہارا سر بلند ہوگا اور اس کو عظمت نصیب ہوگی پس خدا کی خاطر جہاں تعلق تم سے کاٹا جارہا ہے وہاں تعلق جوڑ کے دکھاؤ۔پھر فرمایا، جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی دے جو دیتا ہے اس کے متعلق تو یہ حکم ہے کہ اس سے بڑھ کر دو یا اس کے لئے دعائیں کرو اس کے لئے کچھ ایسا کرو کہ تمہارے دل کو یقین ہو جائے کہ جتنا اس نے تمہارے لئے کیا تھا اس سے زیادہ تم کر بیٹھے ہو۔فرمایا یہ تو ہے ہی لیکن ہم تمہیں اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جو نہیں دیتا اس کو بھی دو۔ورنہ جو دینے والے ہیں ان کے آپس کے تعلقات تو قائم ہو جائیں گے۔جو نہ دینے والے ہیں ان کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان ایک خلیج حائل ہو جائے گی اور اسلام کا جو معاشرہ ہے اس میں اوپر کے طبقے اور نیچے کے طبقے میں کوئی خلیج نہیں ہے۔ان کو جوڑنے کا ایسا عظیم انتظام فرمایا گیا ہے جیسے ہوا کی سرکولیشن کا انتظام کیا جاتا ہے۔جہاں چھتیں چھوٹی ہوں وہاں بعض دوسرے ذرائع سے پنکھے وغیرہ لگا کر سر کولیشن کا انتظام کیا جاتا ہے تا کہ اوپر کی ہوا اور نیچے کی ہوا مل جائے تو قرآن کریم اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کی لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنْكُمُ (الحشر: 8) فرماتا ہے کہ یہ نہ ہو کہ امیر امیروں کو ہی تحفے بھیجتے رہیں اور امیروں سے ہی قبول کرتے رہیں تا کہ تم آپس میں اوپر کے دائرے میں ہی تمہارے درمیان چیزیں گھومتی رہیں۔اصل نیکی یہ ہے کہ جو غریب طبقہ ہے جس سے تمہارے لین دین کے تعلقات نہیں ہیں ان کو دو تا کہ یہ سرکولیشن ایک اوپر کے دائرے میں ہی نہ گھومے، اوپر سے نیچے کی طرف بھی آئے۔حفظان صحت کے جو روحانی اصول ہیں ان کو آنحضرت ﷺ سے جب آپ سنتے ہیں یوں لگتا ہے کہ اس زمانے کا جدید ترین سائنس دان حفظان صحت کے اصولوں پر جو دریافتیں کر رہا ہے، روحانی دنیا کے لحاظ سے ان سب کا علم آنحضرت ﷺ کو اس زمانے میں پہلے ہی دے دیا گیا تھا، کوئی چیز آپ سے اوجھل نہیں رکھی گئی تو یہی مضمون ہے جو فرمارہے ہیں کہ جو نہیں دیتا اسے بھی دے بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ۔جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے درگزر کر۔جو نہیں دیتا، وہاں احسان کی بات تھی۔یہ منفی مضمون شروع ہو گیا ہے بدی کی ، اگر کوئی نہیں دیتا تو اسے کچھ دے یعنی اچھی چیز دے لیکن