خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 860 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 860

خطبات طاہر جلد 13 860 خطبہ جمعہ فرموده 11 /نومبر 1994ء کے نزدیک یہ عام دنیا میں بہت بڑی نیکی بن چکی ہے اب کیونکہ آنحضرت ﷺ جس مکارم الاخلاق پر فائز تھے جس بلندی پہ آپ کا قدم تھا آپ نے بہت چھوٹی نیکی جود دیکھی وہ یہ کہ خندہ پیشانی سے پیش آؤ اور یہاں حال یہ ہے کہ اپنے بچوں سے بھی لوگ خندہ پیشانی سے پیش نہیں آتے ، اپنی بیویوں سے بھی خندہ پیشانی سے پیش نہیں آتے ، اپنی بہنوں بھائیوں سے بھی خندہ پیشانی سے پیش نہیں آتے اور ناک بھوں چڑھا کے بات کرتے ہیں یہاں تک کہ کئی بچے تنگ آ کے بڑے درد کا اظہار کرتے ہیں۔آج ہی کی ڈاک میں مجھے اپنی ایک تحقیق کا جواب ملا ہے جس کا بالکل اسی مضمون سے تعلق ہے۔ایک بچی نے اپنے باپ کی بدسلوکی، بداخلاقی سے تنگ آ کے مجھے لکھا کہ خدا کے واسطے ہمارے گھر کا ماحول درست کرا دیں۔نیک آدمی ہے مگر نیکی کے نام پر اتنی سختی ہے کہ ہماری زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔اس پر میں نے خاص ایک آدمی کو مقرر کیا جن کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ ان میں نصیحت کرنے کا سلیقہ ہے، پیار اور محبت سے ایسے نازک معاملات میں دخل دے سکتے ہیں جہاں ایک آدمی بھونڈے طریق پر بات کرے تو الٹا حال پہلے سے بھی زیادہ بگاڑ دے اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے بعض دفعہ، مگر اب میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسا ہی آدمی لوں جس کو ان باتوں کا سلیقہ ہو۔ان کی رپورٹ ملی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دونوں طرف کی کچھ غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوئیں اور اس بچی نے جھوٹ بھی نہیں بولا ہوا سختی ضرور تھی لیکن باپ کی نیکی کا تو اعتراف کر لیا لیکن اپنی بعض کمزوریوں کا اعتراف نہیں کیا کہ اس کو جو غصہ آتا ہے وہ کس بات پر زیادہ آتا ہے۔تو میرے نمائندہ نے جا کر دیکھا، بتایا مجھے اور اب دونوں طرف ایک قسم کے سمجھوتے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے وعدہ فرمایا ہے کہ کمزوریاں تو ہیں میں انشاء اللہ تعالیٰ دعا کی طرف زیادہ توجہ کروں گا اور سختی سے پیش نہیں آؤں گا۔اس بچی کو بھی انہوں نے سمجھایا اور اب میں براہ راست بھی سمجھا رہا ہوں کہ اپنی کمزوریوں پر بھی نظر رکھو، باپ تمہاری خاطر بے اختیار ہو جاتا ہے اس کو تو ہم نے سمجھا دیا ہے لیکن اب اس کے نرم کلام سے وہ اثر اپنے اندر پیدا کرو جو اس کی سختی سے پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔خندہ پیشانی کا مضمون ہے نصیحت بھی کرو تو خندہ پیشانی سے کرو اور بسا اوقات خندہ پیشانی کا اثر بختی سے بہت زیادہ ہوتا ہے اقبال نے تو فرضی طور پر کہا ہے کہ : پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر (کلیات اقبال)