خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد 13 853 خطبہ جمعہ فرموده 11 / نومبر 1994ء کرنے والوں میں سے ہر ایک کو میں تاکید کرتا ہوں کہ ان آنے والوں کو روزمرہ کچھ قربانی کی عادت ڈالیں اور جن کو عادت پڑ جائے گی ان کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں تھمایا جائے گا خدا ایسے ہاتھ سے ان کو رزق دے گا جس میں آپ کے ہاتھ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی پھر ان کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔اور تحریک جدید کے تعلق میں میں یہ گزارش کروں گا کہ تحریک جدید کا جو کم سے کم معیار ہے ان نئے آنے والوں کی سہولت کے پیش نظر اور قرآن کی اصولی تعلیم کے پیش نظر اس معیار کو نظر انداز کر دیں کوئی پیسہ دے تو پیسہ قبول کر لیں، آنہ دے تو آنہ قبول کر لیں لیکن ان کو بتا دیں کہ تم ایک عظ عالمگیر جہاد میں حصہ لے رہے ہو جس کے یہ پھل ہیں سب جو ہم آج کھا رہے ہیں۔کثرت کے ساتھ دنیا میں جو جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور عظیم الشان ترقیات ہورہی ہیں ان کے پیچھے آغاز میں کچھ خاموش قربانی کرنے والے تھے جنہوں نے تحریک جدید کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیں، اپنی جانیں لٹا دیں، دن رات کے آرام کھو دیے ایسے ایسے خدمت کرنے والے تھے کہ ایک ہی شخص پورے پورے دفتر چلاتا تھا اور صبح کی روشنی دیکھے بغیر وہ دفتر میں داخل ہو جایا کرتا تھا اور سورج ڈوبنے کے بہت بعد جب رات پوری طرح بھیگ چکی ہوتی تھی بعض دفعہ بارہ بجے، بعض دفعہ ایک بجے وہ اپنے گھر کے لئے واپس جایا کرتا تھا۔تو ایسے ایسے مخلصین مثلاً چودھری برکت علی صاحب، بہت سے اور بھی تھے جنہوں نے قادیان میں اس طرح دفاتر چلائے ہیں۔اب بھی وہی روح اللہ کے فضل سے ہمارے نوجوانوں میں آ رہی ہے اور مستقل خدمت کرنے والے نہیں بلکہ عارضی خدمت کرنے والے، طوعی خدمت کرنے والے بھی، کثرت سے ایسے پیدا ہورہے ہیں جنہوں نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے۔تو ان کی قربانیاں اور پھر اس زمانے میں جو غریب چندے دیا کرتے تھے بہت تھوڑے تھوڑے دینے کی توفیق تھی لیکن دیتے بڑے اخلاص کے ساتھ تھے۔بعض دفعہ ان کی غربت کے خیال سے خلیفہ وقت ان کے ہاتھ روکتے تھے کہ اتنا نہیں اور وہ روتے ہوئے ان کے قدموں میں ڈال دیا کرتے تھے۔واقعہ ایک نظارہ میں نے اپنی آنکھوں سے بھی ایسا دیکھا ہوا ہے۔ایک خاتون آئیں انہوں نے کچھ پیش کیا، ہمارے گھر کی بات تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے