خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 852

خطبات طاہر جلد 13 852 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1994ء لازم ہے اور جس کو توفیق ہے وہ ضرور اختیار کرتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑی سنجیدگی سے اس مسئلے کو انسانی روحانی بقاء کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور پیسہ بھی قبول فرمارہے ہیں خدا کی راہ میں مگر تاکید کے ساتھ کہ دیکھو میں فرق نہیں پڑے گا تمہیں فرق پڑے گا۔لیکن مقرر کرو تو پھر پوری وفا کے ساتھ عہد پر قائم رہتے ہوئے اسے ہمیشہ اسی طرح دیتے چلے جاؤ اور یہ جو قانون ہے کہ حسب توفیق دو اور پھر با قاعدہ دو یہ ایسا قانون ہے جونشو نما پاتا ہے۔اس کے اندر ہی خدا تعالیٰ نے نشو ونما کی کل رکھ دی ہے اور ایسا شخص جو باقاعدگی سے تھوڑا دینا شروع کرتا ہے، لازماً بڑھاتا ہے اس کا دل بھی کھلتا ہے اس کی توفیق بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ جو پیسہ ہے وہ آنوں میں، آنے رپوؤں میں یعنی جو بھی دنیا میں مختلف Currencies ہیں ایک درجے کا جو سکہ ہے دوسرے درجوں میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہزاروں دینے والے لاکھوں میں چلے جاتے ہیں لاکھوں دینے والے کروڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور جماعت کی تاریخ من حیث الجماعت یہی منظر دکھا رہی ہے۔وہ جو پیسے دینے والی جماعت تھی لیکن اخلاص سے، باقاعدگی سے دیئے اللہ نے اسے ہزاروں دینے والی بنا دیا، پھر لاکھوں دینے والی بنا دیا پھر لاکھوں کی نسل میں وہ پیدا ہوئے جنہوں نے کروڑوں دیئے اور اب اربوں کا وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔پس اللہ کے فضل کے ساتھ اگر ہم قرآن کریم کے بنیادی اصولوں پر قائم رہیں تو ہمارے مالی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور ہمیشہ ترقی کرے گا اور ہر موسم میں پھل دے گا لیکن شرط یہی ہے کہ ہم بھی ہر موسم میں قربانیوں کے پھل دیں کسی موسم میں ہمارا درخت سوکھ نہ جائے۔پس آنے والوں کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کیونکہ جن کو شروع میں نہ سمجھایا جائے وہ اسی حال پر سخت ہو جاتے ہیں۔بارہا میں نے دیکھا ہے اور بڑے غور سے آنے والوں کا مطالعہ کیا ہے ساری زندگی ، جس جس کام میں مجھے موقع ملا ہے تبلیغ کے تعلق میں، میں نے بڑے غور سے مطالعہ کر کے دیکھا ہے کہ جو بیعت کرنے والے شروع میں ایک دو سال بغیر قربانی کے رہ جائیں ساری عمر وہ درخت سوکھا ہی رہتا ہے اور جو شروع میں شروع کر دیں وہ پھر بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور افریقہ اس سے مستثنی نہیں ہے اور یورپ بھی اس سے مستی نہیں ہے نہ جرمنی مستقلی ہے، نہ بوسنیا مستقی ہے نہ البانیہ متقی ہے۔جہاں جہاں سے بھی تو میں احمدیت میں داخل ہو رہی ہیں ان کے نگرانی