خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 844 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 844

خطبات طاہر جلد 13 844 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء بڑھانے کا تعلق ہے۔اس میں گی آنا کی جماعت نے غیر معمولی کام کیا ہے اور سات سو چورانوے فیصد زیادہ قربانی بڑھا دی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں گنجائش بہت تھی اور عموما ستی پائی جاتی تھی۔ابھی بھی اور گنجائش ہے اللہ کے فضل سے انشاء اللہ ان کو آئندہ اور بھی زیادہ قربانی کی توفیق ملے گی۔زیمبیا نے ایک سو چار فیصد قربانی میں آگے قدم بڑھایا ہے۔سرینام نے اٹھانوے فیصد۔سپین نے ستاسی فیصد۔سیرالیون نے شدید غربت کے باوجود اور سخت بدامنی کے حالات کے باوجود اس قربانی میں چوالیس فیصد اضافہ کیا ہے۔گیمبیا نے چالیس فیصد۔آسٹریلیا نے اکتیس فیصد بیلجیئم نے میں فیصد اور ناروے نے تمھیں فیصد۔حکیم کا اضافہ اگر چہ میں فیصد ہے جو باقیوں سے کم ہے مگر پچھلے سال بھی ان کی قربانی کا معیار بلند تھا اس سے آپ اندازہ کریں کہ ہے کی جماعت تعداد میں بہت تھوڑی ہے اس کے باوجود آٹھ ہزار ایک سو بیاسی پاؤنڈ کی قربانی انہوں نے پیش کی ہے۔اور ناروے جو ان سے تعداد میں بھی دگنے سے بھی زائد ہے اس کا نو ہزار چارسو پینتالیس پاؤنڈ کی قربانی کا معیار ہے جو اچھا ہے لیکن تنظیم کو اللہ تعالیٰ نے بہر حال قربانیوں میں زیادہ آگے بڑھنے کی توفیق بخشی ہے۔جہاں تک جماعت کی ضروریات کا تعلق ہے یہ اللہ پوری کرتا ہے۔اس میں تو کبھی وہم کا شائبہ بھی میرے دل میں پیدا نہیں ہوا کہ چندے کم رہ جائیں گے،ضرورتیں بڑھ جائیں گی۔مجھے یاد ہے اسی سال ان کے جو وکیل چودھری شبیر احمد صاحب چندوں کی وصولی کے ذمہ دار ہیں ان کی طرف سے مجھے یہ تشویش کا پیغام ملا کہ ہم نے مہنگائی کے پیش نظر تمام کارکنوں کے الاؤنس میں بیس فیصد اضافہ کر دیا ہے اور اب حیران ہیں کہ یہ پورا کیسے ہوگا۔انہوں نے مجھے میرے جواب کا ایک حصہ لکھ کے بھیجا ہے دفتری تشویش کی کوئی وجہ نہیں کوشش جاری رکھیں مال تو اللہ ہی نے دینا ہے۔“ کہتے ہیں یہ پیغام ملنے کے بعد جو پہلا دورہ کیا اس دورے میں وہ سارا میں فیصد حاصل ہو گیا بلکہ اس سے معاملہ بڑھ گیا۔تو یہ ایک امر واقعہ ہے اس تجربے کی بنا پر پورے یقین سے میں نے ان کو لکھا تھا اور ہمیشہ یہی دیکھتا ہوں کہ ضرورتیں بڑھتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اموال خود مہیا کر دیتا ہے۔پس اس پہلو سے کوئی فکر کی بات نہیں۔صرف فکر کی بات یہ ہے کہ کبھی بھی ہماری مالی قربانیاں ہماری تقویٰ کی استطاعت سے آگے نہ نکلیں اور ہمیشہ جب آگے بڑھیں تو بڑھتی ہوئی تقویٰ کی استطاعت کی نشاندہی