خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد 13 845 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 رنومبر 1994ء کر رہی ہوں۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔قربانیوں کے بہت ہی عظیم الشان مواقع اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔بعض غریب ایسے بھی ہیں جنہوں نے ، جن کے پاس ایک ذریعہ بائیسکل کا تھا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے۔وہ انہوں نے محض اپنا چندہ پورا کرنے کی خاطر جو تو فیق سے بڑھ کر لکھوا دیا تھا بیچ دیا اور اس کے نتیجے میں جو کچھ حاصل ہوا وہ جماعت کو پیش کیا اور خدا کے حضور سرخرو ٹھہرے۔پس ایسے لوگوں سے خدا کا یہ بھی وعدہ ہے کہ میں دنیاوی اموال میں بھی تمہیں ترقی دوں گا اور واقعہ یہ ہے کہ جماعت کو جو خدا تعالیٰ نئی نئی توفیق عطا فرما تا چلا جارہا ہے اور استطاعت بڑھ رہی ہے اس کا ہمارے پہلے قربانی کرنے والوں سے تعلق ہے جس کا پھل آج جماعت کھا رہی ہے۔آج جو آپ کھیتی بوئیں گے وہ اپنی آئندہ نسلوں کے لئے بوئیں گے۔روحانی طور پر تو اس کے فوائد ہمیشہ لا زوال رہیں گے مگر دنیاوی لحاظ سے بھی جماعت کی مالی استطاعتیں بڑھتی چلی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور خدا کے فضلوں کے یہ نظارے دیکھ کر حقیقی معنوں میں اس کا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج کل دن اتنے چھوٹے ہو گئے ہیں کہ جمعے کی نماز ختم ہونے سے پہلے عصر کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے پس یہ حساب دیکھنے کے بعد میں نے آج سے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک یہ صورتحال جاری رہے گی ہم جمعے کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز بھی پڑھ لیا کریں گے اور اس وقت تک یہ نمازیں جمع ہوں گی اس کے بعد نہیں۔اور روزمرہ کی عام نمازوں پر یہ حکم صادق نہیں آتا کیونکہ ظہر کا وقت ہمارے اپنے اختیار میں ہے ہم ظہر کے اندر ظہر کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔پس اس سے بظاہر رخصت حاصل کر کے لوگ اپنی روز مرہ کی نمازوں کا دستور نہ بدلیں۔ظہر، ظہر کے وقت ادا ہو۔عصر ، عصر کے وقت ادا ہو لیکن جمعہ کی مجبوری کے پیش نظر ، یہ ہوگا اور یہ استثنائی فیصلہ ہے۔