خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 841
خطبات طاہر جلد 13 841 خطبہ جمعہ فرمود و 4 /نومبر 1994ء أَنْفِقُوا خَيْرًا اَنْفُسِكُمْ یہ بات سن لواب۔اگر استطاعت کے مطابق تقویٰ بڑھا لو گے تو پھر جو کچھ خرچ کرو گے وہ تمہارے لئے بہتر ہے وَمَنْ يُّوقَ شُدَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التغابن : 17) اور جو شخص بھی نفس کی کنجوسی سے بچایا جائے تو یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اب ہمارے ہاں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی قربانیوں میں یہ بات دکھائی دے رہی ہے کہ دن بدن نفس کی کنجوسی کا معیار گر رہا ہے اور اللہ کے تقویٰ کے بڑھتے ہوئے معیار کے پیش نظر قر بانیوں کا معیار بڑھ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ ہمیشہ اس بلندی کی راہ پر گامزن رہے تا کہ ہر سال جو قربانیوں کی جنت لگائی جائے وہ پہلے سے بڑھ کر اونچے ہوتے ہوئے مقامات پر نصب کی جائے اور ہم اپنی تاریخ میں ایسی جنات کا ایک سلسلہ پیچھے چھوڑ جائیں جس کا ہر قدم پہلے سے بلند تر تھا اور وہ باغات قرب الہی کے حصول کا ذریعہ تھے اور خدا کے فضل نے ان باغات کی نشو و نما میں حصہ لیا اور جب خدا نے چاہا اور دنیا کے ابتلاء میں وہ لوگ ڈالے گئے تب بھی وہ باغات یعنی قربانیوں کے باغات مر نہیں سکتے ان کی قربانیاں ہمیشہ بڑھتی چلی گئیں۔تحریک جدید کے ساٹھ سال اس بات پر گواہ ہیں۔نصف صدی گزرچکی ہے کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ ایسا ہی ہو رہا ہے، آئندہ بھی اپنے تقویٰ کی حفاظت کریں۔آئندہ بھی اس میدان میں ہمیشہ آگے بڑھتے چلے جائیں۔اب اس عمومی نصیحت کے بعد میں بعض کو ائف مختصر ا آپ کے سامنے رکھتا ہوں یہ سال جو 1993-1994ء کا سال ہے اس میں جماعت احمد یہ عالمگیر کو پانچ کروڑ پچاسی لاکھ تئیس ہزار روپے کے وعدے کرنے کی توفیق ملی۔اس میں سے پانچ کروڑ باون لاکھ تئیس ہزار روپے وصولی ہوئی۔یہ وصولی جو ہے یہ بظاہر کم دکھائی دے رہی ہے مگر گزشتہ ہمارا تجربہ ہے کہ سال ختم ہونے کے بعد پہلے مہینے میں عموما جو بقایا دار ہیں وہ اتنا روپیہ دیتے ہیں کہ وعدوں سے ہمیشہ آمد بڑھ جایا کرتی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ امسال بھی انشاء اللہ یہی ہوگا۔پاؤنڈوں کے حساب سے یعنی سٹرلنگ میں یہ رقم بارہ لاکھ پینتالیس ہزار دوصد پاؤنڈ بنتی ہے اور وصولی گیارہ لاکھ چھہتر ہزار دوصد پاؤنڈ ہے۔اس بقایا میں بہت سی یورپین جماعتیں بھی شامل