خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 840 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 840

خطبات طاہر جلد 13 840 خطبہ جمعہ فرموده 4 / نومبر 1994ء قربانی کی وجہ سے ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ مالی قربانی جو تقویٰ کی استطاعت کے مطابق ہوتی ہے وہ جتنا بڑھتی ہے اتنا بڑھا ہوا تقوی دکھائی دیتا ہے۔پس عزت اور احترام اگر دل میں پیدا ہوتا ہے امتیازی سلوک کی بات میں نہیں کر رہاوہ غلط ہے وہ نہیں ہونا چاہئے لیکن طبعی عزت اور احترام اگر دل میں پیدا ہوتا ہے تو اس آیت کی روح کے مطابق ہے کیونکہ ایسے لوگ جو محض اللہ قربانیاں کرتے ہیں جب ان کی تقویٰ کی استطاعت بڑھتی ہے تب قربانیاں زیادہ ہوتی ہیں ورنہ نہیں ہو سکتیں۔پس جو مالی قربانی میں آگے بڑھ جائے اور اس آیت کی روح کے مطابق آگے بڑھے تو اس کا آگے بڑھنا ، اس کے بڑھتے ہوئے اور بلند تر ہوتے ہوئے تقویٰ کی علامت بن جاتا ہے اور اس پہلو سے اللہ بھی اس قربانی کو قبول فرماتا ہے اور یہی وجہ ہے جو ان لوگوں کی دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے ورنہ ریا کی خاطر بعض دینے والوں کے متعلق جب پتا ہوتا ہے، جن کے حالات سے ہم واقف ہوتے ہیں، تو ان کی مالی قربانی بجائے اس کے کہ ان کی عزت دل میں بڑھائے ان کو اور نظر سے گرا دیتی ہے، ان کے انداز پہچانے جاتے ہیں۔ان کی ادائیں متقیوں سے الگ ادا ئیں ہوتی ہیں اور ایسے لوگوں کا اگر چہ نام نہیں لیا جا سکتا، ناجائز ہے، مگر ایسے کہیں کہیں دکھائی ضرور دیتے ہیں۔وہ اپنی بڑائی کے لئے یا اپنے اخلاص کو دکھانے کی خاطر بعض دفعہ قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر بولی لگا دیتے ہیں اور ان کا دیگر جو تقویٰ کا معیار ہے وہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ اس کے مطابق نہیں ہے۔پس ہرگز جماعت میں ان لوگوں کے لئے کوئی غیر معمولی احترام نہیں پایا جاتا۔یہ اگر کسی کے دل میں وہم ہے تو اس کو نکال دے۔یہ آیت کریمہ ہے جو ہمارے لئے راہنما اصول ہے۔جو ہمارا نور ہے جس کے ذریعے ہم ان امور کا جائزہ لیتے اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اپنے تعلقات کو ڈھالتے ہیں۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم دیکھو اپنی استطاعت کے مطابق تقویٰ اختیار کرو پہلی بات یہ ہے اس میں۔ایک اور بات یہ ہے کہ اس کے بغیر تمہاری سب قربانیاں ضائع جائیں گی اگر تقویٰ کا معیار تم نے استطاعت کے مطابق نہ بڑھایا تو تمہارا باقی نیکیوں کے میدان میں آگے بڑھنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہے گا کیونکہ قبول وہی ہونا ہے جو تقوی کے دائرے میں ہو۔عجیب کلام ہے اپنے تقویٰ کو اپنی استطاعت کے مطابق کرو ہر شخص کو تقویٰ کی ایک استطاعت عطا ہوئی ہے بعضوں کو کم بعضوں کو زیادہ۔اس کے مطابق تقوی کو بڑھاؤ اور پھر سنو اور اطاعت کرو۔