خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 842
خطبات طاہر جلد 13 842 خطبہ جمعہ فرمود و 4 /نومبر 1994ء ہیں اور میں نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ پندرہ بیس دن کے اندر کوشش کریں اگر وہ سارے وعدہ کنندگان کی وصولی پوری کر لیں تو یہ ایک اصول ہے کہ ہمیشہ وصولی وعدوں سے بڑھ جایا کرتی ہے کیونکہ تمام وعدہ کنندگان کے وعدے درج نہیں کئے جا سکتے۔ایک خاصی تعداد ایسی احمدیوں کی ہوتی ہے جو وعدہ کئے بغیر قربانیاں دیتے ہیں۔پس اگر سارے وعدہ کنندگان اپنے وعدے پورے کر دیں تو وہ زائد رقمیں جو وعدوں کے بغیر دی گئی تھیں ہمیشہ وصولی کے معیار کو وعدوں کے معیار سے بڑھا دیتی ہیں۔سال گزشتہ سے موازنے کے لحاظ سے 1993-1992ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ 10,87826 کے وعدے دینے کی جماعت کو توفیق ملی تھی اور وصولی 1091920 تھی یعنی وعدوں سے زیادہ۔اس کی وجہ وہی ہے کہ سال کے عین اختتام پر اگر چہ وصولی کم تھی لیکن اس کے معابعد، اس دوران میں جو پیسے وصول ہوئے ہیں یا معاً بعد وہ اگلے ایک مہینے کے اندر اندر ان کے بقالوں کے حساب میں شمار ہو گئے اور اللہ کے فضل سے وصولی بڑھ گئی۔ایک دو اور موازنے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔تمام دنیا میں اللہ کے فضل سے پاکستان کی جماعتوں کو سبقت لے جانے کی توفیق ملی ہے اور جرمنی جو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ نیکیوں میں سبقت لے جانے کے مقابلے کرتا ہے وہ اس دفعہ پاکستان سے کافی پیچھے رہ گیا ہے۔تو پاکستان کی طرف سے جو شکوہ آیا کرتا تھا کہ آپ نے اس سال جرمنی کو آگے بڑھا دیا ہمیں اس کی بہت تکلیف ہے۔اب میں ان کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے جرمنی کو نہ صرف پیچھے چھوڑا ہے بلکہ کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔دوسرا جرمنی ہے وہ دوسری پوزیشن اس نے برقرار رکھی ہے۔تیسرا امریکہ ہے جو پیچھے سے آیا ہے اور اللہ کے فضل سے تیسری پوزیشن تک جا پہنچا ہے۔پھر برطانیہ ہے جو کم و بیش یہی پوزیشن اپنی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر کینیڈا ہے۔پانچویں نمبر پر۔پھر انڈونیشیا ہے۔پھر جاپان ہے اور جاپان کی قربانی اور سوئٹزر لینڈ کی قربانی اللہ کے فضل سے فی چندہ دہندہ قربانی کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر نمایاں ہے اور باقی سب ملکوں سے آگے ہے۔ماریشس بھی اللہ کے فضل سے آگے بڑھ رہا ہے اور پھر دسواں نمبر ہندوستان کا ہے۔فی کس مالی قربانی کے لحاظ سے گذشتہ سال سوئٹزر لینڈ کی فی کس مالی قربانی یعنی تحریک جدید میں 90 ء163 یعنی 164 پاؤنڈ فی کس تھی جو بہت بڑی ہے اللہ کے فضل سے۔سارے دوسرے