خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد 13 818 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء خدا کی ناراضگی ہے اور ہمیشہ رضا کی جانب قدم اٹھاتے تھے ناراضگی کی طرف اپنے قدم اٹھنے نہیں دیتے تھے یعنی بالا رادہ روک لیتے تھے یہ وہ ابراہیمی صفات ہیں جن کو ہمیں اپنا نا ہوگا کیونکہ ان کا زندگی سے تعلق ہے۔انہی صفات کے نتیجہ میں ان کو زندگی کا راز سمجھایا گیا کہ تو پرندوں کو سدھا اور پھر دیکھے گا کہ پرندے تیرے حکم کے مطابق تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر سمت سے اڑتے ہوئے تیری طرف واپس آ جاتے ہیں۔اب سب باتوں کا صفات سے تعلق ہے اور صفات الہیہ سے تعلق ہے جو اسی کو عطا کی جاتی ہیں جس کے اندر آزمائش میں پورا اترنے کا مادہ پایا جاتا ہے محض اپنی توفیق سے صفات الہیہ نصیب نہیں ہوا کرتیں۔پس ان دونوں باتوں کا گہرا تعلق ہے فَأَتَمَّهُن جو فرمایا کہ ابراہیم کو جب ہم نے آزمائش میں ڈالا تو ہر آزمائش پر وہ پورا اترا اور اس کے بعد صفات الہیہ کا جو ظہور ہوا ہے ابراہیم علیہ السلام کی ذات میں ، وہ اسی کا انعام تھا۔پس اگر آپ نے خدا کے رنگ سیکھنے ہیں اور خدا کے رنگ اختیار کئے بغیر آپ دنیا کو خدا کے رنگ دے ہی نہیں سکتے تو پھر لازم ہے کہ ان امتحانوں میں پورا صلى الله اتریں اور یہ تین امتحان جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے کھول کر بیان فرما دیئے ہیں یہ امتحان ایسے ہیں جن کا زندگی کے ہر دائرے سے تعلق ہے اور بدنصیبی ہے انسان کی کہ وہ اپنی زندگی کے ہر دائرے میں ان تین امتحانوں میں اکثر ناکام ہوتا چلا جاتا ہے۔پس جماعت احمدیہ کو بڑے غور اور حکمت کے ساتھ اس مضمون کو سمجھنا ہے اور اپنی ذات میں اسے جاری کرنا ہے کیونکہ ہمارے بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں پچھلے سال جو خدا نے ہمیں توفیق عطا فرمائی تھی اس سے دگنے کا ہم نے عزم باندھا ہے خدا کی توفیق کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا۔مگر انسانی ہمت کا جہاں تک تعلق ہے اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم نے دگنے کا عزم باندھا ہے تو اس دگنے کام کے لئے کچھ طاقت بھی تو دگنی ہونی چاہئے۔وہ طاقت کہاں سے ملے گی یہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں دعائیں کریں اور دعاؤں کے ساتھ آزمائشوں میں پورے اترنے کی بالا رادہ کوشش کریں اور اس نیت کے ساتھ کوشش کریں کہ مجھے پہلے سے بڑھ کر طاقت ور ہونا ہے کیونکہ میرا بوجھ بڑھ گیا ہے۔اور یہ حسابی بات ہے اگر بڑے بوجھ کے اٹھانے کا ارادہ کرتے ہیں تو لازماً اپنے وجود کی پرورش کرنی ہوگی جسم کمانا ہوگا اور اس کے بغیر بڑے بوجھ کے اٹھانے کی باتیں کرنا محض ایک دیوانے کی بڑ ہے اس کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے۔