خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 813 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 813

خطبات طاہر جلد 13 813 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء اور ان کا کھوج نکال کر ان کو باہر لانا اور ان کی نظر کے سامنے کرنا، یہ بھی آپ ہی کا کام ہے اور اگر دعا کر کے آپ یہ کام کریں تو یہ مشکل کام نہیں ہے۔آج کل ہم تبلیغ کے جس دور میں داخل ہوئے ہیں اس میں ہمارے معیار جلد جلد بڑھ رہے ہیں اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے بعد اگلا قدم اٹھانا دو بھر ہو گا۔ہر چڑھائی پر چڑھنے والا جانتا ہے کہ ایک چوٹی جو دکھائی دیتی ہے اس تک پہنچنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے مگر جب آپ پہنچ جاتے ہیں تو ایک سکون نصیب ہوتا ہے مگر پھر اگلی چوٹی پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتی ہے اور پھر اس سے اگلی چوٹی اس سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔پس یہ ضروری نہیں کہ آپ اگر ایک بلندی طے کر چکے ہیں تو دوسری بھی اسی آسانی سے کر سکیں گے۔ہر اگلی بلندی پہلے سے زیادہ مشکل ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے میں آپ کو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار کرنا چاہتا ہوں کہ اس سال جو ہم نے دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے اس کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کرنی ہوگی ، زیادہ ہم سفر ڈھونڈ نے ہوں گے جو آپ کے کاموں میں آپ کے ہاتھ بٹائیں اور اخلاق حسنہ سے ضرور مزین ہونا ہوگا۔اس کے بغیر یہ سفر طے نہیں ہوسکتا، اس کے بغیر آپ دلوں کے علاقے فتح نہیں کر سکتے تو اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔مشکل کام بھی دعاؤں سے آسان ہو جاتے ہیں۔دعائیں کریں تو انشاء اللہ آپ کے یہ کام آسان ہو جائیں گے وہاں بھی میں نے دیکھا ہے اور بعض بہت سے دوستوں سے جو ملا جنہوں نے اچھے کام کئے تھے تو سب نے یہی کہا کہ حقیقت میں ہم دعائیں کرتے تھے اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ دعاؤں کی وجہ سے خدا نے یہ توفیق عطا فرمائی ہے۔پس جماعت احمدیہ تو دعا کا ایک زندہ معجزہ ہے اگر دنیا میں کسی نے دعا کی حقیقت پانی ہو تو صرف احمدیت ہے جس سے دعا کی حقیقت زندہ حقیقت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔پس آپ دعائیں کرتے رہیں اور محنت کریں اور اخلاص کے ساتھ آگے قدم بڑھائیں۔سب دنیا کے شریف ہمارے منتظر ہیں اور شرافت ہر جگہ موجود ہے یہ دو یقینی باتیں ہیں جن کو دل میں جاگزیں کر کے یقین کے ساتھ، مستحکم قدموں کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے سفر آسان فرمادے گا۔اس مختصر تبصرے کے بعد میں اس مضمون کی طرف واپس آتا ہوں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے الفاظ میں آپ تک بعض نصیحتیں پہنچا رہا ہوں ان کا تعلق اخلاق حسنہ ہی سے ہے۔وہ