خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد 13 812 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 /اکتوبر 1994ء ان کو جلدی تھی ان کے کچھ اور بھی ایسے کام تھے جو پہلے سے طے شدہ تھے۔گھر کی بھی کچھ مجالس تھیں جن میں جانا تھا پھر بھی وہ کھانے کے وقت تک ٹھہرے رہے اور میں جب تک مصروف رہا ہوں اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب میں فارغ ہو کے واپس آیا تو پھر انہوں نے مجھے کہا کہ میں آپ کا شکر یہ ادا کر کے اب اجازت لینا چاہتا ہوں۔تو تمام دنیا میں اس وقت طبیعتوں کی شرافتیں آپ کی منتظر ہیں اور دنیا میں بھی عملاً یہی حال ہے کہ ان کی جنتیں اندر چھپی ہوئی ہیں۔ان کے بدا عمال اور دنیا کے اثرات ان کے باہر ہیں آپ کو بھی تو محنت کر کے ان کے اندر کی جنت ڈھونڈنا ہو گی اور جب تک آپ تکلیف کر کے، ان کی بد اخلاقیوں سے بے پرواہ ہو کر ان کے اندر سرایت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اس وقت تک آپ کو بھی جنت نہیں ملے گی تو یہ دونوں طرف کا معاملہ ہے ذرا مختلف نوعیت کا۔اسلام کے سامنے جو بظاہر آگ دکھائی دیتی ہے وہ تو ایک فرضی آگ ہے، حقیقی آگ نہیں ہے لیکن دنیا کی بداخلاقیوں کی جو باڑ ان کے اردگردگی ہوئی ہے اور آگ جل رہی ہے یہ حقیقی ہے اس کو عبور کرنا واقعہ بہت مشکل ہے لیکن ہرانسان کے اندر ایک جنت موجود ہے یہ یاد رکھیں جس کو آپ بد سے بد سمجھتے ہیں اس کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی حسن دفن کر رکھا ہے۔پس مومن کا کام ہے کہ خود کوشش کر کے ان حسن کے دفینوں تک پہنچے ان سے استفادہ کرے اور ان کو ابھار کر اس کے مالک کے سامنے پیش کرے تا کہ اسے معلوم ہو کہ اس کے پاس بھی حسن کی ایک دولت ہے ورنہ تو صحرائے عرب کی طرح کا حال ہوگا کہ جہاں تیل کے دفینے موجود تھے لیکن اس ملک کے باشندوں کو علم نہیں تھا کہ کیا ہے؟ غیروں نے آ کر محنت کی اور ان دفینوں کو باہر نکالا تب ان کو قدر آئی کہ اس صحرا میں خدا نے کیسی کیسی دولتیں ہمارے لئے اکٹھی کر رکھی تھیں تو انسانوں میں بھی جن کو آپ صحرا سمجھتے ہیں وہ سب صحرا نہیں ہوا کرتے۔ظاہری طور پر دنیا داری ان کو صحرا بنا دیتی ہے لیکن ہر شخص کے اندر خالق کا ایک حسن پوشیدہ ہے اس کو تلاش کریں تو ان کی جنت بھی باہر آ جائے گی اور اس کے نتیجے میں اسلام سے جو گہرا رابطہ پیدا ہونا چاہئے وہ ان کے لئے زیادہ آسان ہو جائے گا کیونکہ اگر مزاج اسلام کے خلاف ہو تو پھر اسلام سے رابطہ پیدا کرنا مشکل کام ہے۔تو دونوں طرف کے سفر ہیں جن کی تیاری آپ ہی نے کرنی ہے۔ان کو اسلام کی طرف سفر پہ آمادہ کرنے کا کام بھی آپ ہی کا ہے، ان کی ذات میں ان کی ودیعت ہوئی ہوئی خوبیوں کی تلاش کرنا