خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد 13 811 خطبه جمعه فرمود و 28 اکتوبر 1994ء مجالس ہوئی ہیں اور مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے، صاف دکھائی دیتا تھا کہ بے حد محنت سے کام لیا گیا ہے اور کچھ لوگ جو واقف نہیں بھی تھے کارکنوں کے اخلاص کی وجہ سے وہ آنے پر مجبور ہو گئے۔اس سے ہمیں ساری دنیا میں یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ تبلیغ کے کام میں بھی اجنبیوں کو پہلے اخلاق ہی سے متاثر کیا جا سکتا ہے یا کیا جانا چاہئے محض پیغام دے دینا کافی نہیں ہے جب تک اخلاق عالیہ کے ساتھ اپنی ذات میں آپ غیروں کی دلچسپی پیدا نہیں کرتے اس وقت تک وہ آپ کے پیغام میں بھی کوئی دلچسپی نہیں لیں گے۔اور یہ پیغام ایسا ہے جو باہر سے بدمزہ دکھائی دیتا ہے اور اس پیغام میں یعنی حقیقی اسلام کے پیغام میں یہ خاص بات ہے کہ باہر سے بُرا دکھائی دیتا ہے جب اس کے اندر انسان داخل ہوتا ہے تو جوں جوں آگے بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ جنت کے مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں اور آنحضرت ملنے کا اخلاق حسنہ ہی تھا جس کی وجہ سے باوجود اس کے کہ بیرونی آنکھ نے شاید نفرت سے اسلام کو دیکھا پھر بھی ان کو کھینچ لائے اور ایک دفعہ وہ اندر داخل ہوئے تو ان کی کایا پلٹ گئی۔قرآن کریم اسی مضمون کو یوں بیان فرماتا ہے کہ جنت کا مقام ایسا ہے جس کے باہر ایک تکلیف دہ صورت حال ہوتی ہے۔باہر سے اندر آنا مشکل ہے لیکن اندر اس کے بہت ہی پیارا منظر ہے اور سکون اور طمانیت ہے۔پس تبلیغ کے وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غیروں کو اسلام کی طرف بلانا ان کی نظر میں ایسا ہی ہے جیسے آگ کی طرف بلایا جا رہا ہے۔اگر پوری آگ نہ سہی تو ایک تکلیف دہ کانٹوں والے رستے کی طرف بلایا جارہا ہے اور جب تک آپ کے اخلاق حسنہ ان پر اتنا اثر نہیں کرتے کہ آپ کی خاطر تکلیف اٹھانے پر مجبور ہو جائیں وہ اسلام میں دلچسپی نہیں لیں گے۔جب ایک دفعہ لے بیٹھیں اور ان کو اسلام کا پیغام براہ راست ملنا شروع ہو جائے تو پھر آپ کا واسطہ بیچ میں سے غائب ہو جائے گا۔پھر اسلام اپنے حسن سے ان کو بڑے زور سے کھینچے گا۔پس یہی وہ راز ہے جس کو اہل نظر ، اہل بصیرت سمجھتے ہیں اور اس سے استفادہ کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے آپ کے سامنے ایک امریکن Senator یا کانگریس مین جو بھی وہ تھے ان کی گواہی پیش کی ہے۔بالکل یہی بات انہوں نے کی کہ جب میں آنے لگا تھا تو دل پہ بوجھ تھا کہ میں کیوں جا رہا ہوں میں خود نہیں سوچ سکتا تھا۔سوائے ایک شخص کے اخلاق سے متأثر ہوئے بغیر میں یہ کام کر نہیں سکتا تھا، مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن جب آیا ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک بڑی نعمت ہے جس سے میں فائدہ اٹھا رہا ہوں اور بہت اچھا کیا کہ میں یہاں چلا آیا۔باوجود اس کے کہ