خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 810

خطبات طاہر جلد 13 810 خطبه جمعه فرموده 28 /اکتوبر 1994ء محنت کی اور امیر صاحب یو۔ایس۔اے، ایم۔ایم۔احمد صاحب نے تو بڑی سنگین بیماری کے باوجود بہت لمبے عرصے تک اس بوجھ کو خود اٹھایا تمام اہم اجلاسوں میں خود شریک ہوتے رہے اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ کس قدر تکلیف میں تھے اور آخر وقت تک اس بوجھ کی وجہ سے ان کے جسم پر نقاہت اور گہری تھکاوٹ کے آثار دکھائی دیتے تھے مگر الحمد للہ کہ جب یہ سارا بوجھ گلے سے اترا ہے اب ان کی صحت پہلے سے بہت بہتر تھی اللہ کے فضل کے ساتھ۔باقی کارکنوں نے بھی ان کے نائب برادر مظفر احمد جو نائب امیر USA ہیں انہوں نے بھی بہت محنت کی ان کے دوسرے ساتھیوں نے بھی جنرل سیکرٹری صاحب ملک مسعود صاحب جو افسر جلسہ بھی تھے، ان سب نے اور ان کے سب ساتھیوں نے بہت لمبے عرصے سے مسلسل محنت کی ہے اور وہ کہتے تو نہیں تھے ان کے چہروں سے اس کے آثار ظاہر تھے اور پھر وقتی طور پر جلسے کے کاموں میں وقتی مصروفیت کے پیش نظر جن کارکنوں نے جلسے کے دوران کام کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہیں۔پھر جس جگہ ہم گئے وہاں کے کارکن کچھ دن پہلے کام شروع کر دیتے تھے کچھ دن بعد تک کاموں کو سمیٹنے کا بوجھان پر رہتا تھا۔ان سب کے لئے میں جماعت سے عمومی دعا کی درخواست کرتا ہوں۔اللہ ان کی کوششوں کو بار آور بنائے۔جہاں تبلیغ کے سلسلے میں انہوں نے رابطے پیدا کئے اور بڑی محنت سے اپنے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا بعض دفعہ اجنبیوں کو بھی اپنے جلسوں میں شرکت پر منتوں کے ذریعے مجبور کیا وہ بھی ایک ایسا فعل ہے جس پر مجھے امید ہے کہ اللہ رحمت کی نظر کرے گا۔نیو یارک میں ایک Senator تھے یا ممبر کانگرس تھے وہ ہمارے Reception پر تشریف لائے تو اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ بات یہ ہے کہ میرا علاقہ یہ نہیں ہے، میں دوسرے علاقے سے آیا ہوں اور میرے آنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ جو شخص مجھے بلانے پر مامور تھا اس کا ایسا انکسار تھا اس قدر لجاجت تھی اس طرح بار بار وہ مجھے کہتا رہا کہ میرے لئے انکار ممکن ہی نہیں رہا۔اس لئے آیا تو سرسری طور پر ایک شخص کے ذاتی اخلاق سے متاثر ہوکر تھا لیکن یہاں آ کر جو میں نے دیکھا ہے وہ اتنی عظیم بات ہے کہ میں خوش ہوں کہ میں نے وہ بات مان لی کیونکہ میرا آنا بہت ہی مفید ثابت ہوا ہے ایسے اچھے جلسے، ایسے اچھے لوگ جس میں مدعو ہوں اور پھر ایسی اچھی باتیں کی جائیں، یہ تو ایک قسمت کی بات ہے جو یہ نصیب ہو۔یہ ان کے الفاظ تو نہیں مگر ان کے الفاظ کا مفہوم بعینہ یہی تھا جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔اس کے علاوہ بھی شکا گو میں یا دوسری جگہوں پہ، جہاں جہاں بھی