خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 791
خطبات طاہر جلد 13 791 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء پیدا ہوا ہے۔اس سے پہلے میں ہمیشہ یہ شکوہ لے کر واپس جایا کرتا تھا کہ پہلی نسل کے مخلصین تو اسی طرح قائم ہیں مگر آگے اپنی آئندہ نسلوں میں انہوں نے احمدیت کی اقدار کو بڑھایا نہیں اور یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: 19) کے پیغام کو نہ سمجھا نہ اس پر عمل کیا چنانچہ بکثرت ایسے خاندان میرے علم میں آتے رہے جن کے بڑے تو اسی طرح اخلاص میں قائم رہے مگر نسلیں ہاتھوں سے پھسل گئیں اور واپس دنیا داری کی طرف لوٹ گئیں۔بعض ایسے بھی واقعات ہوئے جو بہت تکلیف دہ تھے کہ اگر عیسائیت سے وہ خاندان آیا تو اگلی نسل رفتہ رفتہ سرکتی ہوئی واپس عیسائیت میں چلی گئی۔اس سے معلوم ہوتا تھا کہ باشعور طور پر انہیں اپنے ساتھ لگائے رکھنے کی کوشش نہیں ہوئی اور جو خاندانی تعلقات کے اسلامی تصورات ہیں ان کے مطابق خاندانی تعلقات کو ڈھالا نہیں گیا ورنہ یہ ناممکن ہے کہ ماں باپ اسلامی قدروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں سے پیار اور تعلق رکھیں، انہیں اپنے قریب کریں اور اپنے گھروں کو ان کی دلچسپیوں کا مرکز بنا ئیں اور پھر بھی وہ بچے سرک کر باہر نکل جائیں، یہ فطرت کے خلاف بات ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ کیسی ہی زہریلی سوسائٹی کیوں نہ ہو جہاں خاندانوں کے تعلقات اسلامی اقدار کے مطابق باندھے جاتے ہیں اور انہیں قائم رکھا جاتا ہے وہاں انگلی نسلیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ محفوظ رہتی ہیں اور باہر سے زیادہ ان کا دل گھر میں لگتا ہے۔پس اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے کہ امریکہ میں بہت ہی اچھے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی جو امریکن بچے یعنی پاکستان سے آکر بنے ہوئے امریکن نہیں بلکہ یہیں کی زمین کی پیداوار اور نہیں پلنے بڑھنے والے بچے اللہ کے فضل سے ایسا گہرا تعلق رکھنے لگ گئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور ان کی محبت آئندہ اس اسلام کے خوش آئند مستقبل کی ضمانت دے رہی تھی۔پس اس پہلو سے ابھی ہمیں اور کام کرنے کی ضرورت ہے احمدی خاندانوں میں جو باہر سے آکر یہاں بسے ہیں ان میں ابھی مزید اس پہلو سے اصلاح کی ضرورت ہے۔بہت سے بچے میں نے ان میں سے ایسے دیکھتے ہیں جن کی نظروں میں غیریت آچکی تھی۔جن میں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مل کر کچھ اثر تو قبول کر رہے ہیں لیکن ماں باپ کے دباؤ کے نیچے یا مشوروں کے مطابق منت سماجت کے نتیجے میں وہ اس موقع پر پہنچ گئے ہیں مگر خود دل کے شوق سے نہیں آئے اور ان کی اجنبیت ان کے لباس، ان کے رنگ ڈھنگ، ان کے اٹھنے بیٹھنے ، ان کے دیکھنے