خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد 13 790 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /اکتوبر 1994ء رجسٹر پر نام لکھوا دیتے ہیں اور محنت نہیں کرتے وہ پہچانے جاتے ہیں کیونکہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔جب مجالس سوال و جواب میں ایسے داعیین الی اللہ کے محنت کر کے اکٹھے کئے ہوئے لوگ وہاں پہنچتے ہیں تو ان کی طرز سے ، ان کی آنکھوں، ان کی اداؤں سے صاف پتا چلتا ہے کہ پہلے ان پر کوئی کام نہیں ہوا اور ان کے سوالات بھی اسی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن وہ جن پر کام ہو چکا ہو ان کے اندر تبدیلی کے آثار ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں۔ان کے چہروں پر وہ سعادت کا نور آ جاتا ہے جو نور کے قریب ہونے سے طبعا ظاہر ہونا چاہئے اور وہ پاک علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں ان کے لئے بے اختیار دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور بہت سے ایسے لوگ عملاً پکا ہوا پھل ہوتے ہیں ایسے موقع پر ان کو بہانہ چاہئے اور وہ پھر بہت جلد احمدیت کی آغوش میں آ جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے لاس اینجلس میں مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ محنت دکھائی دی اور جو احمدی اس علاقے میں ہوئے ہیں ان کے اندر پختگی کے آثار بھی تھے اور آئندہ بہت نیک ارادے ظاہر کر رہے تھے لفظوں میں بھی اور ان کی اداؤں سے بھی معلوم ہوتا تھا کہ اس بات میں سنجیدہ ہیں کہ آئندہ وہ اپنے علاقے میں، اپنے ماحول میں، اپنے گرد و پیش بکثرت احمدیت کا پیغام پہنچائیں گے اور بہت گہرا اطمینان ان کے اندر دکھائی دیتا تھا۔پس اس پہلو سے دعوت الی اللہ کے کام میں خدا کے فضل سے لاس اینجلس میں جو نمونہ قائم ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ابھی بہت کام ہونے والا ہے اس سے کسی حد تک اطمینان ہوا کہ امریکہ کی سرزمین بھی انشاء اللہ آئندہ دعوت الی اللہ کے کاموں میں زیادہ تیز رفتاری سے آگے قدم بڑھائے گی۔دوسری جگہوں میں ایسا کوئی نمایاں نظارہ دیکھنے میں نہیں آیا۔لیکن ایک اور بات جس سے میں عموماً مطمئن ہوا ہوں اور اس میں محض لاس اینجلس کا اعزاز نہیں بلکہ عمومی طور پر امریکہ کے دورے کے دوران کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے بکثرت احمدی خاندانوں سے ملنے کی توفیق ملتی رہی ہے اور سینکڑوں خاندانوں کے ہزار ہا افراد سے بچوں، بڑوں، جوانوں سب سے گفتگو ہوئی اور بعض جگہ چونکہ وقت بہت تھوڑا تھا ، ویسے توفیق نہیں ملی مگر اکثر جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے سے ایک دوسرے کی دلچسپی کی باتیں کرنے کا موقع ملا۔اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے جو سب سے خوش کن بات مجھے اس دفعہ معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایفر وامریکن نوجوان نسل میں پہلے سے بہت بڑھ کر جماعت سے تعلق