خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد 13 757 خطبہ جمعہ فرموده 7 /اکتوبر 1994ء کے ملکوں سے مغربی قوموں نے دھوکہ دے دے کر لوگوں کو پکڑا اور بہت مدت تک نہایت خوفناک جیلوں میں ٹھونسا اور پھر وہاں سے پکڑ کر یہ ایسے حال میں امریکہ کے ساحل پر لے کے آئے کہ بڑی بھاری تعدا در ستے میں گندی اور نا قابل برداشت حالتوں کے نتیجے میں مر جایا کرتی تھی۔میں جب غانا گیا تھا تو وہاں جب ان کے صدر سے ملنے گیا تو ان کے ایڈی کام نے مجھے محل میں وہ تہہ خانہ بھی دکھایا تھا جہاں کسی زمانے میں دھوکہ دے کر افریقن یعنی غانین افریقنوں کو پکڑ کر پہلے قید میں رکھا جاتا تھا اور پھر وہاں سے جہازوں پر لاد کر امریکہ پہنچایا جا تا تھا۔ایسا خوفناک نظارہ تھا کہ اس کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں انسان کی بہیمانہ کیفیت کو دیکھ کر ، اس کی بدحالت کو دیکھ کر۔بتانے والوں نے بتایا کہ ایک ایک کمرے میں اتنے اتنے آدمی ٹھونس دیئے جاتے تھے کہ وہ بیٹھ نہیں سکتے تھے کیونکہ بیٹھے کے لئے جو ہلنے کی جگہ ہے وہ میسر نہیں ہوتی تھی اور ان کے لئے کوئی ٹائیلٹ کا انتظام نہیں ہوا کرتا تھا۔اور خوراک ، اس وجہ سے کبھی کبھی روٹی پھینک دیا کرتے تھے کہ یہ مر نہ جائیں یہ ہماری دولت ہے جو ضائع نہ ہو جائے۔اور اس حالت میں کئی لوگ کھڑے کھڑے مر مر کر گرتے رہتے تھے یا پھنسے رہتے تھے اسی طرح۔پھر جن جہازوں پر لادتے تھے ان میں ایسی کیفیت تھی جیسے ڈربوں میں ظالم لوگ مرغیاں ٹھونس دیتے ہیں اور ان کا بھی وہی حال تھا یعنی جو تاریخ میں نے پڑھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ پچیس سے تیس فیصد تک زندہ آدمی امریکہ پہنچتے تھے باقی رستوں میں مرجاتے تھے اور ابھی یہ مہذب قومیں ہیں، یہ اسلام کی غلامی کے تصور پر ہنستی ہیں حالانکہ قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھیں اور اس تعلیم کو دیکھیں جو آنحضرت ﷺ نے غلاموں کے متعلق فرمائی تو ایک حیرت انگیز انسانی عظمت کا مظہر تعلیم ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں غلام بنانے کا رستہ تو کوئی نہیں بتایا گیا سوائے اس کے کہ جنگ ٹھونسی گئی ہو اور غلامی سے آزادی کے بے شمار دروازے کھولے گئے ہیں یہاں تک کہ یہ حق بھی ہر غلام کو دے دیا کہ اگر تم جنگی غلام کے طور پر کسی کے ماتحت آئے ہو اور اس سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو تمہارا بنیادی حق ہے، تم جتنی قیمت تمہاری طے ہو وہ وعدہ کرو اور اس کے نتیجے میں تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔پھر کماؤ اور اس قیمت کو ادا کروا سے مکاتبت کہا جاتا ہے۔کسی آزاد کو خود پکڑ کر غلام بنالینا اور بیچنا اتنا مکروہ فعل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خبر دی کہ یہ دوسرا شخص جسے میں قیامت کے دن سختی سے دیکھوں گا اور سختی سے اس