خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد 13 755 خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1994ء رہتے ہیں اگر یہ نہ کر سکیں تو ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور ان سے شرمندہ رہتے ہیں کہ یہ جوان کو نہیں ملا اور مجھے ملا ہے، اگر میں حق دار نہیں تھا تو پھر لازم ہے کہ ان کے لئے کچھ نہ کچھ کروں اور ان کی تکلیفوں کو کم کروں اور ان کی خوشیوں میں اپنی خوشیاں شریک کر دوں۔یہ وہ مضمون ہے جو بڑا وسیع ہے اس مضمون پر بعض دفعہ میں نے پورے خطبات صرف کئے ہیں لیکن اتنا گہرا اور تفصیلی وسیع مضمون ہے کہ اس کا ایک دو خطبوں سے حق ادا نہیں ہوسکتا۔بہر حال حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث میں بہت ہی گہری فراست ہے اور تمام انسانی نفسیات کا نچوڑ ہے۔اگر آپ اس پر عمل نہیں کریں گے تو اس وقت جو باقی دنیا کا حال ہے وہی حال جماعت کا ہو جائے گا وہ سب ایک دوسرے سے اموال میں بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کوشش حسد کے نتیجے میں ہے ایک دوسرے کو اچھا دیکھ نہیں سکتے اور یہ حال جب معاشرے میں ہو جائے تو گھر گھر آپس میں بٹ جاتے ہیں۔جس بلا کا نام ہمارے ملک پنجاب میں شریکہ رکھا جاتا ہے، یہ وہی بلا ہے جو ایک دفعہ وارد ہو جائے تو گھروں کو اجاڑ دیتی ہے اور پیچھا نہیں چھوڑتی۔ایک خاندان کا حصہ ہے وہ نسبتا غریب ہے دوسرا خاندان ہے اللہ تعالیٰ نے دوسرے حصے پر نسبتا زیادہ نعمت عطا فرما رکھی ہے تو ان کو دیکھتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے کہ یہ کیوں ہم سے اچھے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور شریکے کی دشمنیاں کئی قسم کے بدرنگ اختیار کر لیتی ہیں، رشتے اجڑ جاتے ہیں۔آپس میں تعلقات کے نتیجے میں یعنی دنیاوی تعلقات کے نتیجے میں بعض رشتے بھی کرنے پڑتے ہیں اور وہ رشتے نعمت کی بجائے عذاب بن جاتے ہیں۔پس یہ بہت ہی بڑی ہلاکت ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے اس نصیحت کے ذریعے ہمیں بچالیا۔میں امید رکھتا ہوں کہ ان تمام قوموں میں، ان تمام خاندانوں میں جن میں یہ وبا موجود ہے، یہ بلا آ پڑی ہے کہ وہ اچھے کو اچھا نہیں دیکھ سکتے ، وہ اس نصیحت کو سن کر اس پر عمل کر کے اپنی زندگی میں انقلاب بر پا کرنے کی کوشش کریں گے، اپنے سے نیچے کو دیکھیں گے ان سے ہمدردی کا سلوک کریں گے۔اگر یہ سلسلہ ہو تو سلسلہ وار سب سے اچھا، اپنے سے کم تر ، سب سے جھک کر ملے گا اور وہ اس سے حسن سلوک کرے گا۔اس کی نعمت سے باقی خاندان کے لوگ بھی حصہ پائیں گے، اس کی رحمت اور شفقت کا باقی سب بھی مورد بنیں گے اور اس طرح یہ تعلقات نفرتوں اور حسد پر منتج ہونے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کے