خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 754 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 754

خطبات طاہر جلد 13 754 خطبہ جمعہ فرموده 7/اکتوبر 1994ء دوسرے انعامات زیادہ عطا کئے ہیں یا ذہنی اور قلبی صلاحیتیں زیادہ بخشی ہیں تو ایسے شخص کی زندگی ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہتی ہے اور ہمیشہ ناشکری کے خیالات دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں کہ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ دیا، مجھے نہیں دیا، اس نے یہ اپنے ذرائع سے حاصل کر لیا اور میں نہیں کر سکا، تو ساری زندگی میں ایک تلخی گھولی جاتی ہے لیکن ایک انسان اگر نیچے کی طرف دیکھنے کا رجحان رکھتا ہو تو وہ لوگ جو اس سے کئی طرح سے کم تر ہیں ، ذہنی لحاظ سے کم تر ہیں یا جسمانی استعدادوں کے لحاظ سے کم تر ہیں یا مالی استعدادوں کے لحاظ سے کم تر ہیں، رہن سہن اور دنیا کے دیگر آرام کے ذرائع میں وہ نسبتا کم تر ہیں تو اس کی توجہ ان کے لئے ہمدردی اور احسان کے زاویہ سے ہوگی اور حقارت کے زاویہ سے نہیں ہو گی کیونکہ اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے شکر کی شرط لگادی ہے کہ یہ میں تمہیں شکر کا طریق سکھا رہا ہوں۔پس جو شخص اپنے سے کم تر کو دیکھے وہ ہمیشہ شکر میں مبتلا رہے گا کہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ مجھے یہ بھی میتر ہے اور وہ بھی میتر ہے اور ان ان صلاحیتوں میں میں اس سے بہتر ہوں۔پس اس پہلو سے اگر آپ دنیا میں تمام معذوروں اور مجبوروں کو دیکھیں یا غریبوں کو دیکھیں یا مظلوموں کو دیکھیں تو آپ کے اندر ہمیشہ یہ احساس تشکر زندہ رہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہتوں سے بہتر انعام عطا فرمائے ہیں جن کے آپ حق دار نہیں تھے، جو آپ نے کمائے نہیں ہیں کیونکہ اگر آپ اپنے آپ کو حق دار سمجھیں اور یہ یقین کریں کہ یہ کچھ آپ نے کمایا ہے تو پھر شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ٤ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے (درشین : 36) بہت پیارا شعر ہے اور اسی مضمون پر روشنی ڈال رہا ہے کہ وہ شخص جو یہ سمجھتا ہو کہ جو کچھ بھی ملا ہے اللہ کی نعمت ہے اور اس کی مرضی ہے وہ مالک ہے جتنا چاہے دے اسی پر ہم راضی رہیں اور پھر یہ یقین کریں کہ یہ ہماری محنت یا حق کے نتیجے میں نہیں ہے بلکہ عطا کے نتیجے میں ہے تو ایسے انسان کی زندگی غربت اور تکلیف میں بھی سنور جاتی ہے۔اور اس کا روز مرہ کا اپنے ماحول سے برتا ؤ اور ان سے اٹھنا بیٹھنا اور ملنا جلنا ایک شکر گزار بندے کی طرح ہو جاتا ہے۔اپنے سے کم تر سے وہ جب ملتے ہیں تو احسان کے ساتھ ملتے ہیں اور جوشکر گزار ہو اور یہ سمجھے کہ میرا حق نہیں تھا مجھے عطا کیا گیا ہے۔وہ جو محروم ہیں ان کے لئے ان کے دل میں زیادہ ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور ان کے لئے خرچ کرنے پر تیار