خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 739
خطبات طاہر جلد 13 739 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء کیونکہ اس مضمون کے معا بعد خدا کہف میں قربانی دینے والے بزرگوں کا ذکر فرماتا ہے جو عیسائی قوم سے تعلق رکھتے تھے، جو حضرت عیسی کے بچے شاگرد تھے۔پس اس نے ہمیں تبلیغ کا ایک نیا اسلوب عطا فرما دیا۔ہمیں سکھایا کہ کس طرح ان قوموں سے بات کرنی ہے دو باتیں بہت اہم ہیں اس میں۔اول غم محمد رسول اللہ ﷺ کی طرح بنی نوع انسان کا ہمدرددل حاصل کئے بغیر آپ دنیا کو تبلیغ نہیں کر سکتے۔سب سے بڑا مبلغ جو کائنات میں کبھی پیدا کیا گیا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملتے تھے اور سب سے زیادہ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں مبتلا دل اگر کسی کو عطا ہوا ہے تو وہ آنحضرت تھے، جو دشمن کی ہلاکت کی خبر سے بھی اس قدر غمگین ہو جاتے تھے۔پس اگر آپ کے دل میں صلى الله ان کی سچی ہمدردی نہیں ہے، اگر آپ صرف اپنی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں اگر اور ذاتی مفادات کی خاطر آپ تبلیغ کر لیتے ہیں یا محض ایک سطحی خیال سے کہ ہمیں پھیلنا چاہئے ، بڑھنا چاہئے آپ تبلیغ کا خیال دل میں جماتے ہیں تو یہ ساری وہ باتیں ہیں جو بظاہر اچھی ہیں مگر ان میں گہرائی نہیں ہے، جو بظاہر اچھی ہیں مگر اثر سے خالی رہیں گی۔پس وہ لوگ جو دل کی گہری ہمدردی کے بغیر کسی قوم کو ہدی کی طرف بلاتے ہیں ان کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا ، ان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔پس یہ راز سورہ کہف سے سیکھیں کہ وہ دل لے کر تبلیغ کے لئے نکلنا ہوگا جس کو یقین ہو کہ ان قوموں کے بدانجام کا وقت قریب آ رہا ہے اور وہ اس کے نتیجے میں سخت بے چین ہو۔ایساد کھ محسوس کرے کہ بے اختیار ان قوموں کی ہدایت کے لئے نکل کھڑا ہو۔یہ ایسی حقیقت ہے جسے روز مرہ زندگی میں آپ اپنے دل پر چسپاں تو کر کے دیکھیں تب آپ کو معلوم ہو گا کہ کس حد تک آپ داعی الی اللہ ہیں اور کس حد تک نہیں ہیں۔داعی الی اللہ یقین سے پیدا ہوتا ہے اور یقین دو چیزوں پر مشتمل ہے ایک خوشخبری پر یقین، خدا کے سچے وعدوں پر یقین اور ایک انذار اور منذر خبروں پر یقین اور خدا کے وعید پر یقین۔وعدہ عربی میں اس خوشخبری کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو عطا کرنے کا کوئی عہد کر لے اور وعید ایسی خبر سے تعلق رکھتا ہے جس میں ڈرانا ہو اور خوف ہو کہ اگر تم یہ کرو گے تو ضرور اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔پس جب تک ان دونوں باتوں پر یقین نہ ہو انسان حقیقت میں داعی الی اللہ نہیں بن سکتا کیونکہ قرآن کریم کی بیان کردہ تاریخ میں تمام انبیاء کا تعارف بَشِيرًا وَنَذِيرًا کے ذریعے کروایا گیا ہے یا تو وہ بشیر تھے یا