خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 740
خطبات طاہر جلد 13 740 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء وہ نذیر تھے اور کوئی تیسرا تعارف نہیں ملتا دو ہی حیثیتیں ہیں یا منذر ہیں یا مبشر ہیں۔تو منذ روہ ہے جس کو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جس کا وعدہ دیا گیا ہے وہ ضرور آنے والا ہے، وہ کلمہ حق ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور مبشر وہ ہے جسے یقین ہے کہ جو خدا کی باتوں پر ایمان لائے گا وہ ضروران بدیوں سے بچایا جائے گا۔پس اگر کسی عمارت میں آگ لگی ہو اور آپ جانتے ہوں کہ نکلنے کا رستہ ہے اور بغیر آواز دیئے خود نکل جائیں اور تسلی پا جائیں کہ میں نے اپنی جان کو بچالیا تو یہ بچنا حقیقت میں آپ کی روحانی ہلاکت ہے۔جسے اپنے بھائیوں کا پاس نہیں، جسے یہ خوف نہیں کہ اس عمارت میں کئی بچے ، کئی معصوم عورتیں، کئی بوڑھے، کئی بیمار بھی پڑے ہوں گے جب تک وقت کے اوپر ان کو متنبہ نہ کیا جائے ان کو نکلنے میں مدد نہ کی جائے اس وقت تک میرا اکیلا اپنی جان بچالینا کافی نہیں ہے، اس وقت تک حقیقی انسانیت انسان میں پیدا نہیں ہوسکتی اور انسانیت کے بغیر کوئی مذہب آ ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو مذہب کی مختلف منازل بیان فرمائی ہیں ان میں فرمایا ہے کہ مذہب کا کام ہے پہلے حیوان کو بشر بنانا ایک ایسا انسان جو محض حیوانی زندگی بسر کر رہا ہے اسے انسانیت کے تقاضوں کا علم نہیں ہے وہ خود غرضی میں مبتلا ہے، اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کر رہا ہے۔اسے سب سے پہلے عام انسانیت کے آداب اور اسلوب سکھانا۔پھر فرماتے ہیں کہ وہ انسان جو مہذب ہو جائے اس کو باخدا انسان بنانا پھر مذہب کا دوسرا کام ہے۔تو اگر پہلی منزل ہی طے نہیں ہوئی تو دوسری منزل تک کیسے پہنچ جائیں گے، پہلی منزل کی سیڑھیاں پھلانگ کر دوسری منزل کی سیڑھیوں میں تو آپ داخل ہو نہیں سکتے۔پس بہت سی دنیا کے لوگ ان خوش فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم مذہبی ہیں، ہم مذہب پر عمل کر رہے ہیں، قرآن کریم کو سمجھ رہے ہیں، اس کی تلاوت کرتے ہیں، نماز پڑھ رہے ہیں، کافی ہے۔کئی غیر احمدی بھی ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا میرا نماز پڑھ لینا کافی نہیں، کیا تلاوت کافی نہیں؟ اگر یہ کافی ہوتا تو محمد رسول اللہ ﷺ کو کیا مصیبت پڑی تھی کہ اپنی جان ہلکان کرتے ہوئے ، اپنے وجود کو جان جوکھوں میں ڈالتے ہوئے، انتہائی تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے ہر طرف پیغام پھیلاتے چلے گئے یہاں تک مصیبتیں سہیڑ میں کہ آپ کی دشمن قو میں آپ کی پیروی میں مدینے پہنچ کر آپ پر حملہ آور ہوئیں اور ایک ہی مقصد تھا ان کا، پہلی جنگ میں بھی اور دوسری میں بھی اور تیسری میں بھی، کہ جو کچھ ہو اس ایک وجود کو دنیا سے ہلاک کر دیا جائے۔کیا