خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد 13 738 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء وَإِنَّا لَجُعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا جو کچھ بھی اس پر ہے اسے زائل کر دیں گے اور ان علاقوں کو چٹیل میدان چھوڑ دیں گے۔اس مضمون کو سورہ طہ میں بھی بیان فرمایا گیا ہے۔تو میں جس طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں قرآن کریم کے مختلف بیانات کو آپس میں جوڑیں اور ان کے تعلقات باندھ کر پھر سمجھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیسی عظیم کتاب ہے جو عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر نازل فرمائی اور تمام زمانے کے علوم اس میں اس طرح بھر دیئے جیسے دنیاوی ضرورت کی تمام نعمتیں اس زمین کی سطح کے اوپر یا نیچے دفن ہیں۔پس یہ وہ پہلو ہے جس کے پیش نظر آپ کے سامنے تبلیغ کی اہمیت ابھرنی چاہئے کیونکہ وہ زمانہ قریب آ رہا ہے جس میں ہم یقینی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ وہ نعمتیں جو سیخ کی دعا سے ان قوموں کو ملی تھیں۔ایک تو حید پرست مسیح کی دعا سے ان قوموں کو ملی تھیں ، شرک میں داخل ہونے کے نتیجے میں مسیح کی حقیقت کی عظمت کو پہچاننے کی بجائے اسے ایک فرضی رومن متھ (Mith) کی کہانی میں تبدیل کرنے کے نتیجے میں ان کی دنیا کی لذتوں کی پیروی اس رستے سے ہٹ گئی ہے جس رستے پر چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔اللہ کے شکر کی بجائے ان کے اندر ایک اندرونی رعونت نے سراٹھایا ہے۔یہ سمجھنے لگے ہیں یہ سب کچھ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔کسی کے خیال میں ، دور کے خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ دو ہزار سال پہلے خدا کے عظیم بندے مسیح کی دعا کا پھل ہے جو ہم کھا رہے ہیں اور چونکہ اسے وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی اور ایسی زینت سمجھتے ہیں جس پر وہ خود مختار ہیں جس طرح چاہیں فیصلے کریں اس لئے ان تمام تر نعمتوں کا استعمال غلط ہو رہا ہے۔خدا کے قریب تر لانے کی بجائے جوں جوں یہ نعمتیں بڑھ رہی ہیں یہ خدا سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اور وہ انذار جس کی طرف سورہ کہف توجہ دلاتی ہے کہ وَإِنَّا لَجُعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا اس انجام کی طرف یہ دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں اور یہ انذار تھا جس کی کیفیت آنحضرت ﷺے کا دل بھانپ گیا اور اس بد انجام کے غم سے آج سے چودہ سو سال پہلے آپ کے دل نے ایسی تکلیف محسوس کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے! کیا تو ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا ؟ پس ضرورت ہے قرآنی اسلوب کے مطابق ان کے پاک ماضی کی ان کو یاد دلائی جائے